انسانیت کا ایک مسافر اپنی منزل کو پہنچ گیا

از:-محمد حسین جوکاکو
معاشرہ ایک ایسے مخلص، دردمند اور بے لوث سماجی خادم سے محروم ہوگیا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم و ملت کی خدمت میں صرف کردی۔ جناب سید حسن برماور مرحوم کی رحلت یقیناً ایک ایسا خلا ہے جسے پر کرنا آسان نہیں۔
مرحوم کی خدمات معاشرے کے ہر طبقے میں روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مسجد کے مصلیوں سے لے کر اپنے محلے اور اطراف کے علاقوں،اپنوں اوربرادران وطن میں بھی، ان کی کوششیں روشنی کی مانند عیاں تھیں۔ میں نےبچپن ہی سے انہیں مساجد میں فرض نمازوں کے بعد حکومتی مراعات، راشن کارڈ اسکیموں اور انتخابی معلومات سے متعلق اعلانات کرتے دیکھا، جس سے یہ واضح ہوتا تھا کہ ان کے دل میں قوم کی بیداری اور مسائل کے حل کی کتنی گہری فکر موجود تھی۔
ہمارے محلہ عمر اسٹریٹ میں جب مسجد محمد عمر الجابری کا قیام عمل میں آیا، تو مرحوم نے مسلسل چھ تا سات سال تک رمضان المبارک میں اعتکاف کا اہتمام کیا۔ اس دوران وہ نوجوانوں میں دینی شعور، دعوتی فکر، قربانی کا جذبہ اور ملت کا درد پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔
مرحوم کے اہلِ خانہ سے ہمارے قریبی تعلقات رہے۔ ان کی بہن کے فرزندان—عبدالرقیب، عبدالرحمان، رضوان اور رفاعی—سے خصوصی قربت تھی، خصوصاً عبدالرقیب سے دوستانہ تعلق تھا۔ چونکہ ان کی ہمشیرہ کا گھر ہمارے ہی محلے میں تھا، اس لیے مرحوم کا اکثر وہاں آنا جانا رہتا، اور یوں ملاقاتوں کے دوران شہر کے مرکزی اداروں اور جماعتی سرگرمیوں پر مفید گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا۔
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی اعتکاف، تراویح، قیام اللیل اور شب بیداری کے موضوعات پر ان سے ہونے والی گفتگو نہایت روح پرور اور خوشگوار ہوتی تھی۔ ان کا گھر خصوصی و عمومی مہمانوں اور رشتہ داروں کی مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھا۔ ان کی اہلیہ مرحومہ بھی مہمان نوازی میں بے مثال تھیں، اور ہر آنے والے کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتیں۔
مرحوم نے جماعتی اداروں کے ساتھ ساتھ مجلس ملیہ، مسجد محمد عمر الجابری اور مسجد عثمانیہ کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں، جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ تقریباً تیس پینتیس سال قبل نوائط اور مدینہ کالونی کے طلبہ اور تحریکی نوجوانوں کے درمیان دینی مکالمے، نظمیں اور تقاریر کے ذریعے تربیتی پروگرام منعقد کرنا، ان کی میزبانی کرنا اور ان کےلئے تفریحی مواقع فراہم کرنا—یہ سب ان کی شخصیت کے درخشاں پہلو ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے نوجوان نسل کے مزاج کو دینی اور دعوتی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔
مرحوم کی ایک نمایاں خوبی ان کی صاف گوئی تھی۔ وہ حق بات کہنے میں کسی مصلحت یا مداہنت کے قائل نہ تھے، چاہے کسی کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ چاپلوسی سے وہ ہمیشہ دور رہے۔
سعودیہ میں کاروبار کے دوران بھی ان کی سخاوت اور فیاضی اپنی مثال آپ تھی۔ ضرورت مند کبھی ان کے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ وہ نہ صرف مانگنے والوں کی مدد کرتے بلکہ خود بھی مستحقین کی تلاش کرکے ان کی کفالت کا انتظام کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کی ان تمام خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔