ریاست کرناٹک کے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ سدارامیا آئندہ دو سے تین دن میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں، جبکہ کانگریس کی مرکزی قیادت نے متفقہ طور پر ڈی کے شیوکمار کو اگلا وزیر اعلیٰ بنانے کی حمایت کر دی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سدارامیا کو راجیہ سبھا کی نشست اور دہلی میں قومی سطح کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس پیشکش پر غور کرنے کے لیے قیادت سے وقت مانگا ہے۔
کانگریس ہائی کمان کی جانب سے دہلی میں ہونے والے ایک طویل اجلاس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اگرچہ کانگریس کے جنرل سیکرٹری کے سی وینوگوپال نے سرکاری طور پر ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ اجلاس میں صرف راجیہ سبھا اور ایم ایل سی انتخابات پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت نے اقتدار کی منتقلی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پوری ہائی کمان ڈی کے شیوکمار کو اقتدار منتقل کرنے کے حق میں ہے۔
پس منظر کے حوالے سے دیکھا جائے تو ۲۰۲۳ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے بعد سے ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے رسہ کشی جاری تھی۔ ڈی کے شیوکمار نے اس وقت نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ اس شرط پر قبول کیا تھا کہ ڈھائی سال بعد انہیں وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا۔ کانگریس اب تک اس تبدیلی سے گریز کر رہی تھی کیونکہ سدارامیا کو ریاست کے انتہائی اہم ‘اہندا’ یعنی اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور دلتوں کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔ اسی ووٹ بینک کی بدولت کانگریس نے گزشتہ انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ پڑوسی ریاست تمل ناڈو کے حالیہ انتخابات کے پیش نظر بھی اس فیصلے کو موخر کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی قسم کے سیاسی نقصان سے بچا جا سکے۔
اس تبدیلی کے ریاستی سیاست اور بالخصوص اقلیتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سدارامیا کو اقلیتوں اور مسلم کمیونٹی کا ایک مضبوط حامی سمجھا جاتا ہے، اور ان کی قیادت میں مسلم کمیونٹی کے مسائل کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی کے شیوکمار اس وسیع تر ووٹ بینک کا اعتماد کس حد تک برقرار رکھ پاتے ہیں اور اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور ان سے جڑے ریاستی پالیسی معاملات پر ان کا مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔
سدارامیا اس وقت دہلی میں موجود ہیں اور ان کی جلد بنگلورو واپسی متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سدارامیا کے قریبی رہنما اس متوقع فیصلے سے خوش نہیں ہیں اور انہوں نے وزیر اعلیٰ کو حتمی فیصلہ لینے سے قبل تمام سیاسی آپشنز پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سیاسی حلقوں اور ریاستی عوام کی نظریں اب آئندہ چند روز میں ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہیں کہ آیا اقتدار کی یہ منتقلی پرامن طریقے سے ہوتی ہے یا کانگریس کے اندر کوئی نیا داخلی تنازعہ سر اٹھاتا ہے۔




