کرناٹک اسمبلی میں ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا بل منظور، بی جے پی کا واک آؤٹ

بنگلورو: کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی نے پیر کے روز ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے کرناٹک گرام سوراج اور پنچایت راج (ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا، جس کے تحت ریاست میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کرائی جائے گی۔ اس موقع پر بی جے پی کے اراکین نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

بل پیش کرتے ہوئے دیہی ترقی و پنچایت راج کے وزیر پریانک کھرگے نے کہا کہ یہ قانون اس لیے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا سیاسی جماعتوں کی جانب سے ای وی ایم سے متعلق اٹھائے گئے خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

وزیر کے مطابق بیلٹ پیپر کے استعمال سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور ووٹروں کے ذہنوں میں پائے جانے والے شبہات کا ازالہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تبدیلی صرف بلدیاتی انتخابات تک محدود ہوگی اور دیگر انتخابات کے لیے مرکزی قوانین ہی لاگو رہیں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈرآر اشوکا نے بل کو “رجعت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور انتخابی نظام کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا رہی ہے۔ احتجاج کے دوران انہوں نے علامتی طور پر بل کی کاپی پھاڑ دی، جس کے بعد بی جے پی کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

بی جے پی کا موقف ہے کہ ای وی ایم ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد نظام ہے، جسے ملک بھر میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے، اور اسے چھوڑ کر بیلٹ پیپر کی طرف جانا انتخابی عمل کو سست اور تنازعات کا شکار بنا سکتا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر اختلافات کے باوجود بل کو اکثریت کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔ اب اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد ریاست کے بلدیاتی انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔