ٹرمپ کا ایرانی قیادت سے بات چیت کا دعوی ، ایران نے کی تردید ،کہا ٹرمپ نے خود ہی قدم پیچھے کھینچ لیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری رابطوں میں “اہم نکات پر اتفاق” پایا گیا ہے اور یہ عمل ایسے نتیجے تک پہنچنا چاہیے جس میں تہران نہ صرف اپنے جوہری عزائم ترک کرے بلکہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے بھی دستبردار ہو جائے۔ تاہم ایران نے ان مذاکرات کے وجود ہی سے انکار کرتے ہوئے امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

پیر 23 مارچ 2026 کو صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ بات چیت ایک “اہم ترین شخصیت” کے ساتھ ہو رہی ہے، لیکن وہ ایران کے سپریم لیڈر نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا مطالبہ بالکل واضح ہے: ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی اور اس کے پاس موجود افزودہ یورینیم بھی امریکہ کے مطالبات کے مطابق معاملے کا حصہ ہوگا۔ ٹرمپ کے اس بیان نے یہ ظاہر کیا کہ واشنگٹن صرف جوہری سرگرمیوں کی بندش نہیں بلکہ ایران کی موجودہ جوہری صلاحیت کے مادی ڈھانچے کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کی قیادت کو مختلف مراحل میں سخت نقصان پہنچایا ہے، لیکن اب امریکہ ایسے شخص سے معاملہ کر رہا ہے جسے وہ “سب سے زیادہ محترم” اور مؤثر رہنما سمجھتے ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں اشارہ دیا گیا کہ امریکی رابطہ کسی سینئر ایرانی عہدیدار کے ساتھ ہو سکتا ہے، لیکن اس بارے میں اب تک کوئی باضابطہ اور مشترکہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نہ کوئی براہِ راست مذاکرات ہوئے ہیں اور نہ ہی بالواسطہ بات چیت اس انداز میں ہوئی ہے جیسا واشنگٹن پیش کر رہا ہے۔ ایرانی مؤقف یہ ہے کہ بعض علاقائی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن تہران نے امریکی بیانیے کے مطابق کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کی توثیق نہیں کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق اس وقت ایک ہی صورت حال کو بالکل مختلف انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کو وقتی طور پر مؤخر کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اچھے اور نتیجہ خیز رابطوں کے بعد چند روز کی مہلت دی گئی ہے، جس کے فوری اثرات عالمی منڈیوں پر بھی دیکھے گئے، جہاں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محاذ آرائی اور سفارت کاری اس وقت ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، اور ہر نیا بیان نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔

پس منظر میں اصل تنازع ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی کشیدگی، علاقائی سلامتی، اور امریکہ و اسرائیل کی عسکری حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی افزودہ یورینیم کی منتقلی یا ضبطی کو کسی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے، تو یہ ایران کے لیے ایک نہایت حساس اور مشکل شرط ہوگی، کیونکہ یہی نکتہ مستقبل کی کسی بھی ڈیل میں سب سے بڑا تصادم بن سکتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں نہ مکمل جنگ کا خطرہ ٹلا ہے اور نہ ہی سفارتی پیش رفت کو حتمی کہا جا سکتا ہے۔

اس پورے معاملے کا اثر صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر کوئی معاہدہ بنتا ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، تیل کی رسد بہتر ہو سکتی ہے اور عالمی منڈیوں کو فوری راحت مل سکتی ہے۔ لیکن اگر بیانات اور زمینی حقیقت میں یہی تضاد برقرار رہا تو حالات دوبارہ خطرناک فوجی تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔ اس لیے آنے والے دن اس بحران کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔