اتر کنڑا ضلع کے بھٹکل شہر میں متنازع مورین کٹے مقام کے قریب 24 مئی کی شب پیش آئے کشیدہ حالات کے سلسلے میں بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں متعدد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے درج سرکاری دستاویزات کے مطابق ہجوم جمع ہونے، مبینہ حملے، سرکاری کام میں رکاوٹ، املاک کو نقصان پہنچانے، مالی خسارے اور سوشل میڈیا پر لوگوں کو جمع ہونے کی ترغیب دینے والے پیغامات کے تعلق سے الگ الگ مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ قومی شاہراہ 66 پر واقع مورون کٹے کے قریب پیش آیا، جہاں رات دیر گئے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال نے امن و قانون کے لیے چیلنج پیدا کردیا تھا، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
ایک ایف آئی آر میں ملزم کو “نامعلوم شخص” قرار دیا گیا ہے، جس کا نام اور پتہ معلوم نہیں بتایا گیا، جبکہ مذہب کے خانے میں مسلم درج کیا گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم ایک بالغ مرد بتایا گیا ہے۔ دوسری ایف آئی آر میں سچن نامی شخص، جو یشونت راؤ پوار کا بیٹا اور عمر تقریباً 30 سال بتائی گئی ہے، کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق درج شکایات میں راگھویندر نائک، سریش نائک اور دِمَاکر پی ایم کے نام بطور شکایت کنندہ شامل ہیں۔ ایک مقدمے میں مالی نقصان کی شکایت بھی درج کی گئی ہے، جس میں 15 گرام چاندی کی چین اور ایک موبائل فون کے ضائع ہونے کا ذکر ہے۔ پولیس نے اس نقصان کی مجموعی مالیت تقریباً 44 ہزار روپے بتائی ہے۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے اس بات کا بھی نوٹس لیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پیغامات اور ویڈیوز گردش کررہے تھے، جن میں لوگوں کو متنازع مقام کے قریب جمع ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں واضح کیا گیا ہے کہ ان پیغامات اور ویڈیوز کے ذرائع اور مقصد کی بھی جانچ کی جارہی ہے تاکہ صورتحال بگڑنے کے اسباب کا پتہ چلایا جاسکے۔
تمام مقدمات بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ ہر زاویے سے تفتیش جاری ہے اور واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ویڈیوز اور دیگر شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ مورین کٹے تنازعہ کے بعد بھٹکل میں کئی گھنٹوں تک کشیدگی برقرار رہی تھی، جس کے پیش نظر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی اور بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے گئے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے امن برقرار رکھنے، افواہوں سے دور رہنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔




