الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ایک اہم قانونی جھٹکا دیتے ہوئے غازی پور میں سابق رکنِ اسمبلی مختار انصاری کے رشتے کے بھائی منصور انصاری کی غیر منقولہ جائیداد قرق کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔
منصور انصاری کی اپیل قبول کرتے ہوئے جسٹس رجبیر سنگھ نے واضح طور پر کہا کہ حکومت محض بے بنیاد الزامات یا صرف کسی گینگسٹر سے تعلق کی بنیاد پر کسی شخص کی جائیداد کو گینگسٹر ایکٹ کے تحت ضبط نہیں کر سکتی۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جائیداد ضبط کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ کسی جرم کی آمدنی سے حاصل کی گئی ہو۔
اس سے قبل غازی پور کی ایک خصوصی عدالت نے ضلع مجسٹریٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس کے تحت تقریباً 26 لاکھ 18 ہزار روپے مالیت کی دکانوں اور عمارتوں کو ضبط کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی پولیس کی اس رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ جائیداد مبینہ طور پر مختار انصاری سے منسلک ہے۔
تاہم ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ضلع مجسٹریٹ کے اختیارات مطلق نہیں ہیں، اور کسی بھی جائیداد کو ضبط کرنے سے پہلے ٹھوس شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شخص کے مجرمانہ عمل اور اس سے حاصل ہونے والی جائیداد کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت ہونا چاہیے، محض شبہ یا رشتہ داری اس کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ منصور انصاری کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ مختار انصاری کے خلاف 2007 میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا، لیکن منصور انصاری اس کیس میں نامزد نہیں تھے۔ اس لیے صرف رشتہ داری کی بنیاد پر ان کی جائیداد ضبط کرنا قانونی طور پر درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔
12 مارچ کو سنائے گئے اس فیصلے میں، جس کی تفصیلات اب منظر عام پر آئی ہیں، عدالت نے غازی پور کی عدالت کے فیصلے اور ضلع مجسٹریٹ کے حکم دونوں کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ متعلقہ جائیداد فوری طور پر خالی کی جائے۔
یہ فیصلہ نہ صرف اس مخصوص معاملے میں اہم ہے بلکہ مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے بھی ایک واضح قانونی نظیر قائم کرتا ہے، جس میں حکومت کو جائیداد ضبط کرنے سے قبل مضبوط شواہد پیش کرنے ہوں گے۔
