دو پین کارڈ کیس میں اعظم خان کی سزا 7 سے بڑھ کر 10 سال مقرر

اترپردیش کے رام پور میں واقع ایم پی ایم ایل اے سیشن کورٹ نے سماج وادی پارٹی کے سرکردہ رہنما محمد اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو دو پین کارڈ کیس میں ایک اور بڑا قانونی جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے اعظم خان کی پہلے سے مقرر سات سال کی سزا کو بڑھا کر دس سال کر دیا ہے، جبکہ عبداللہ اعظم کی سات سال قید کی سزا کو برقرار رکھا گیا ہے۔

اس قانونی پیش رفت کے دوران دونوں رہنماؤں پر عائد جرمانے کی رقم میں بھی کئی گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے اعظم خان پر عائد پچاس ہزار روپے کے پچھلے جرمانے کو نمایاں طور پر بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا ہے۔ دوسری جانب عبداللہ اعظم خان پر عائد جرمانہ پچاس ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے تین لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ سرکاری وکیل سیما سنگھ رانا کے مطابق نچلی عدالت کی جانب سے مختلف دفعات کے تحت دی گئی سزاؤں میں استغاثہ کی درخواست پر یہ اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ بنیادی طور پر جعلی دستاویزات تیار کرنے اور دو الگ الگ پین کارڈز کے غیر قانونی استعمال سے متعلق ہے۔ اس سے قبل مجسٹریٹ کورٹ نے باپ بیٹے دونوں کو اس معاملے میں سات سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ان سزاؤں کے خلاف اعظم خان کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کو 20 اپریل 2026 کو سیشن کورٹ نے مکمل طور پر خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد اترپردیش حکومت نے عدالت سے رجوع کیا اور موقف اختیار کیا کہ جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے یہ سزا ناکافی ہے جسے مزید بڑھایا جانا چاہیے۔

عدالت نے مکمل جائزے کے بعد تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت سزاؤں کو سخت کر دیا ہے۔ دفعہ چار سو بیس کے تحت سزا کو تین سال سے بڑھا کر سات سال کیا گیا ہے، جبکہ سب سے سنگین دفعہ چار سو سڑسٹھ کے تحت سزا کو سات سال سے بڑھا کر دس سال کی سخت قید میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح دیگر متعلقہ دفعات اور مجرمانہ سازش کی دفعہ ایک سو بیس بی کے تحت بھی سزاؤں کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ اس فیصلے سے ایک طویل عرصے سے قانونی محاذ پر جدوجہد کرنے والے مسلم اقلیتی رہنما کی سیاسی اور ذاتی مشکلات میں مزید سنگینی پیدا ہو گئی ہے۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیشن کورٹ کا یہ فیصلہ اعظم خان کے لیے حالیہ عرصے کا سب سے مشکل دن ثابت ہوا ہے۔ اب ان کے پاس اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا راستہ موجود ہے، تاہم فوری طور پر ریاستی حکومت کی اس قانونی پیش رفت نے ان کی رہائی کے امکانات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے کہ اہم اپوزیشن اور اقلیتی رہنماؤں کو کن سخت قانونی اور ریاستی چیلنجز کا سامنا ہے۔

شیئر کریں۔