بھٹکل (فکرو خبر نیوز) بھٹکل میں عید کے قریب آتے ہی ایک بار پھر بجلی کی بار بار کٹوتی پر عوامی تشویش بڑھ گئی ہے۔ اگرچہ شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی جاری ہے، لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران بجلی کی آنکھ مچولی مسلسل جاری رہی ہے، جس سے گھریلو زندگی اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
مقامی باشندوں کے مطابق یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ تقریباً ہر سال عید سے پہلے اسی طرح کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عید سے قبل کے دنوں میں بجلی کی سپلائی غیر مستحکم ہو جاتی ہے اور وقفے وقفے سے بجلی منقطع ہونے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔
عوام کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ بجلی بند ہونے کی وجوہات بھی اکثر ایک جیسی بتائی جاتی ہیں۔ حکام کی جانب سے عموماً کہا جاتا ہے کہ مین پاور لائن کٹ گئی ہے یا درخت گرنے کی وجہ سے لائن متاثر ہوئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تکنیکی خرابیاں کبھی کبھار ہوسکتی ہیں، مگر ہر سال خاص مواقع، خصوصاً رمضان اور عید کے موقع پر اسی طرح کے مسائل سامنے آنا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
رمضان کے دوران بجلی کی طلب میں فطری طور پر اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ لوگ سحری کے لیے علی الصبح بیدار ہوتے ہیں اور تراویح و دیگر عبادات کے سبب رات گئے تک سرگرم رہتے ہیں۔ اس وجہ سے گھروں، مساجد، دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز کے لیے مسلسل اور مستحکم بجلی کی فراہمی نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔
شہر کی معروف سماجی و سیاسی تنظیم مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داران نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ہیسکام کے عہدیداران سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے شہر کے عوام کو پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا اور بجلی کی بار بار بندش کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مقامی لوگوں نے بجلی کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پاور لائنوں کی مناسب دیکھ بھال اور بروقت مرمت کو یقینی بنایا جائے تاکہ خصوصاً تہوار کے موقع پر شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
عید کے قریب آنے کے ساتھ ہی شہریوں کو امید ہے کہ متعلقہ حکام اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دیں گے اور آئندہ دنوں میں بجلی کی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔
