پی این جی صارفین کے لیے نیا حکم، اب ایل پی جی سلنڈر نہیں ملے گا

ہندوستان میں گیس سپلائی سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جن گھروں میں پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کنکشن موجود ہے، وہ اب سبسڈی والے ایل پی جی (LPG) سلنڈر نہیں رکھ سکیں گے۔ یہ فیصلہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

مرکزی وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جن صارفین کے پاس اس وقت PNG اور LPG دونوں کنکشن موجود ہیں، انہیں فوری طور پر اپنا ایل پی جی کنکشن سرنڈر کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی PNG کنکشن رکھنے والے افراد مستقبل میں نئے گھریلو ایل پی جی کنکشن کے لیے بھی درخواست نہیں دے سکیں گے۔

حکومت نے یہ فیصلہ ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس سلسلے میں مائع پیٹرولیم گیس (سپلائی اور تقسیم) ضابطہ 2000 میں ترمیم کرتے ہوئے ترمیمی آرڈر 2026 جاری کیا گیا ہے۔

نئے ضابطوں کے مطابق سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ایسے صارفین کو نہ تو نیا گھریلو ایل پی جی کنکشن فراہم کریں گی اور نہ ہی انہیں سلنڈر ری فل کی سہولت دیں گی جن کے گھروں میں پہلے سے PNG کنکشن موجود ہے۔ اس پابندی کو ایل پی جی سپلائی ضوابط کے شیڈول میں آئل کمپنیوں کے لیے ممنوع سرگرمیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس ترمیم کا بنیادی مقصد گھریلو ایل پی جی کی تقسیم کو زیادہ منظم بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سبسڈی والی گیس اُن گھرانوں تک پہنچے جن کے پاس پائپڈ گیس نیٹ ورک کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی توانائی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی توانائی راستے میں رکاوٹ کے امکانات کے باعث۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان نے مالی سال 2025 میں تقریباً 33 ملین ٹن ایل پی جی استعمال کی، جس میں سے 20.67 ملین ٹن درآمد کیا گیا۔ ان درآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ مغربی ایشیا سے آتا ہے۔

حکومت نے اس کے ساتھ گھریلو ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت بھی دی ہے اور کہا ہے کہ تیار شدہ ایل پی جی کو ترجیحی بنیاد پر سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فراہم کیا جائے تاکہ گھریلو صارفین، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔