الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: سائنسی تصدیق کے بغیر گائے کے گوشت کے الزام میں گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی، یوپی حکومت پر جرمانہ

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں انسداد گاؤ ذبیحہ قانون کے تحت کی جانے والی کارروائیوں پر ایک انتہائی اہم فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ جب تک سائنسی لیبارٹری کی رپورٹ سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ برآمد شدہ گوشت گائے کا ہے، تب تک کسی بھی شخص کی گاڑی ضبط کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ اس غیر منصفانہ کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر دو لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے تاکہ متاثرہ شخص کے مالی نقصان کی تلافی کی جا سکے۔

باغپت کے رہائشی محمد چاند کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس سندیپ جین نے یہ فیصلہ سنایا۔ پولیس نے محض شک کی بنیاد پر محمد چاند کی گاڑی قبضے میں لے لی تھی۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ کسی مجاز لیبارٹری کی حتمی رپورٹ کے بغیر محض شبہات پر کسی شہری سے اس کا روزگار چھین لینا اس کے بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے ضلعی مجسٹریٹ اور ڈویژنل کمشنر کے احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے سات دن کے اندر عرضی گزار کو جرمانے کی رقم ادا کرنے اور تین دن میں گاڑی واپس کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

یہ معاملہ 18 اکتوبر 2024 کا ہے جب باغپت پولیس نے گاڑی کو روکا اور دعویٰ کیا کہ اس میں ممنوعہ گوشت لے جایا جا رہا ہے۔ بعد ازاں 16 جون 2025 کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اس گاڑی کو باقاعدہ ضبط کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ عرضی گزار کے وکیل نے عدالت میں یہ ثبوت پیش کیا کہ سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر نے بھی اپنی رپورٹ میں گوشت کے گائے کا ہونے کی حتمی تصدیق نہیں کی تھی اور اسے محض مشکوک قرار دیا تھا۔ اسی بنیاد پر محمد چاند نے اس ضلعی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

اس عدالتی فیصلے سے اتر پردیش میں انسداد گاؤ ذبیحہ قانون کے بے جا استعمال پر قدغن لگنے کا امکان ہے۔ عدالت نے اتر پردیش انسداد گاؤ ذبیحہ قانون 1955 کی دفعہ 5-اے (6) کی صراحت کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانونی کارروائی کے لیے مستند لیبارٹری کی رپورٹ ناگزیر ہے۔ پچھلے 18 ماہ سے گاڑی بند رہنے کی وجہ سے محمد چاند کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ گاڑی اس کا واحد ذریعہ معاش تھی۔ اس فیصلے نے انتظامی افسران کے لیے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ قانون کا استعمال حقائق اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کریں۔

ریاستی حکومت اب سات دن کے اندر دو لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہے۔ تاہم عدالت نے حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو یہ رقم ان لاپرواہ افسران کی تنخواہوں سے وصول کر سکتی ہے جنہوں نے بغیر کسی سائنسی ثبوت کے یہ منمانی کارروائی کی۔ اس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ مستقبل میں ایسی کسی بھی کارروائی سے قبل فرانزک اور لیبارٹری رپورٹس کا لازمی انتظار کرے گی۔

ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ایک مضبوط مثال ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی شخص کو محض شک اور شبہات کی بنیاد پر ریاستی طاقت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا، اور قانون کا اطلاق ہمیشہ ٹھوس شواہد اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

شیئر کریں۔