نئی دہلی : لوک سبھا میں پیر کے روز اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث کارروائی بار بار متاثر ہوئی اور اسپیکر اوم برلا کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد پر کارروائی نہیں ہو سکی۔ اپوزیشن ارکان نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں نعرے بازی کی۔
ایوان کی کارروائی دن میں کئی بار ملتوی ہونے کے بعد جب سہ پہر تین بجے دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے سبب اسے دن بھر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔
کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان نے ایوان کے وسط میں آکر احتجاج شروع کر دیا۔ اس موقع پر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال، جو اس وقت کارروائی کی صدارت کر رہے تھے، نے احتجاج کرنے والے ارکان سے اپیل کی کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھیں اور ایوان کو اسپیکر کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد پر کارروائی کی اجازت دیں۔
پال نے اپوزیشن کو یاد دلایا کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پہلے ہی ایوان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران پر بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے دیا گیا التوا کا نوٹس اس مرحلے پر نہیں لیا جا سکتا۔
گرما گرم ماحول کے دوران جگدمبیکا پال نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ ایوان کے کام کاج میں خلل ڈال کر عوام کے پیسے کا ضیاع کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنے مطالبات منوانے کے لیے پارلیمانی کارروائی کو "یرغمال” بنا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی چلانے پر روزانہ تقریباً نو کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، اس لیے ایوان کے کام کو متاثر کرنا مناسب نہیں۔ پال نے اپوزیشن کے طرز عمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض ارکان سیاسی مقاصد کے تحت کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اور چیئر دونوں اسپیکر کے خلاف قرارداد پر کارروائی کے لیے تیار ہیں، تاہم اپوزیشن کے احتجاج کے باعث اس پر عمل ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔
