بھٹکل میں رمضان المبارک کے روحانی ماحول میں کمی پرعلماء کو تشویش ، نمازِ تراویح میں گھٹ رہی ہے مصلیوں کی تعداد

بھٹکل(فکروخبرنیوز) رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی بھٹکل میں ہمیشہ کی طرح روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ مساجد میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، لوگ زیادہ وقت عبادت میں گزارتے ہیں اور خصوصاً نمازِ تراویح کا اہتمام بڑے ذوق و شوق کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ رمضان کے ابتدائی دنوں میں اس مرتبہ بھی مساجد میں نمازیوں کی اچھی خاصی تعداد دیکھی گئی، تاہم جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، تراویح میں شریک ہونے والوں کی تعداد میں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

شہر کی مختلف مساجد سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پہلے عشرہ کے دوران مساجد میں اچھی چہل پہل رہتی ہے لیکن بعد کے دنوں میں نمازیوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ جو پہلے بڑی تعداد میں تراویح میں شریک ہوتا تھا، اب نسبتاً کم دکھائی دے رہا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق اس رجحان کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ ان میں ایک وجہ ان دنوں جاری کرکٹ مقابلے بھی بتائے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر کرکٹ کےعالمی سطح کے مقابلوں کے دوران نوجوانوں کی دلچسپی زیادہ تر اس طرف مرکوز رہتی ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ تراویح میں شریک نہیں ہو پاتے۔

بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھٹکل کا ماحول رمضان کے دوران نہایت روح پرور ہوا کرتا تھا۔ ہر نماز کے بعد مساجد میں لوگ دیر تک عبادت اور تلاوتِ قرآن میں مصروف رہتے تھے۔ خصوصاً فجر کی نماز کے بعد مساجد میں ایک بڑی تعداد خاموشی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرتی نظر آتی تھی۔ یہ منظر رمضان کے پورے مہینے میں عام دیکھا جاتا تھا لیکن اب صورتحال میں کچھ تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ مساجد میں فجر کے بعد تلاوتِ قرآن میں مصروف افراد کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم دکھائی دیتی ہے۔ علماء اور بزرگ افراد کے مطابق موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر مصروفیات نے بھی لوگوں کی روزمرہ زندگی پر اثر ڈالا ہے جس کا اثر عبادات اور معمولات پر بھی پڑ رہا ہے۔

شہر کے علما اور دینی رہنماؤں نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے جس میں عبادت، تلاوتِ قرآن اور نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے خاص طور پر اپیل کی ہے کہ وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور رمضان کے بابرکت ایام کو عبادت اور روحانی اصلاح کے لیے غنیمت سمجھیں۔

مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر گھر کے بڑے اور والدین اس سلسلے میں توجہ دیں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں تو مساجد میں پہلے جیسی رونق دوبارہ لوٹ سکتی ہے اور رمضان کی روحانی فضا مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔