کرناٹک کا 4.48 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش، سدارامیا نے جی ایس ٹی اور فنڈ میں کمی پر مرکز کو گھیر لیا

کرناٹک کا 4.48 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش، سدارامیا نے جی ایس ٹی اور فنڈ میں کمی پر مرکز کو گھیر لیابنگلورو: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعہ کو ریاست کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کل 4.48 لاکھ کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا۔ فینانس محکمہ بھی سنبھالنے والے سدارامیا نے اسمبلی میں اپنا ریکارڈ 17 واں بجٹ پیش کیا۔

اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ کسانوں، مزدوروں، خواتین، اقلیتوں، طلبہ، نوجوانوں، تاجروں اور کمزور طبقات کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر جی ایس ٹی آمدنی میں کمی اور مالیاتی کمیشن کی جانب سے ریاست کو کم حصے کی الاٹمنٹ پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

بجٹ کے مطابق مجموعی اخراجات میں 3,38,007 کروڑ روپے ریونیو خرچ، 74,682 کروڑ روپے سرمایہ خرچ جبکہ 35,316 کروڑ روپے قرض کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ سال 2026-27 کے لیے ریونیو خسارہ 22,957 کروڑ روپے اور مالیاتی خسارہ 97,449 کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے، جو ریاستی مجموعی گھریلو پیداوار (GSDP) کا تقریباً 2.95 فیصد ہے۔

بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈ مختص کیے گئے ہیں جن میں تعلیم کے لیے 47,224 کروڑ روپے، خواتین و بچوں کی بہبود کے لیے 34,929 کروڑ روپے، صحت کے لیے 17,817 کروڑ روپے اور سماجی بہبود کے لیے 18,612 کروڑ روپے شامل ہیں۔ بچوں کے بجٹ کے لیے 63,135 کروڑ روپے جبکہ صنفی بجٹ کے لیے 94,663 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اہم اعلانات میں آدیواسی ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور شیڈول ٹرائبس کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور طلبہ کے ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے بلاک سطح پر ذہنی صحت کے مشیر مقرر کیے جائیں گے۔ سرکاری اسکولوں اور کالجوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے والی طالبات کو 30 ہزار روپے اسکالرشپ بھی دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی معیشت مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے اور 2025-26 میں کرناٹک کی جی ایس ڈی پی میں 8.1 فیصد ترقی کا اندازہ ہے۔ ان کے مطابق زراعت میں 9.1 فیصد، صنعتوں میں 6.7 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 8.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی شرحوں میں تبدیلی اور مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے باعث ریاست کو مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مرکز سے اس سلسلے میں مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ جاری رکھا جائے گا۔