بنگلورو: کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے اپنے ایک بیان کہا کہ ریاستی حکومت کی پانچ گارنٹی اسکیمیں سرکاری خزانے پر مالی بوجھ بن چکی ہیں، تاہم عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جاری رکھا جائے گا۔
’کسوما سنجیوینی‘ پروگرام کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گارنٹی اسکیموں کا مقصد صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ مشکل حالات میں خاندانوں کو ذہنی اطمینان اور مالی تحفظ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات عوام میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں۔
روزگار کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت بدعنوانی سے پاک بھرتی کے لیے پرعزم ہے اور خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے معاملے پر کابینہ میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابقہ بی جے پی حکومت کے دور میں بے ضابطگیوں کے باعث کئی عہدے خالی رہ گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ بھرتی کا عمل کرناٹک پبلک سروس کمیشن (KPSC) سمیت متعلقہ اداروں کے سپرد کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کی فلاح کے لیے یووانیدھی سمیت مختلف اسکیموں کے تحت امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2027 تک میٹرو نیٹ ورک کو 175 کلومیٹر تک وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ڈبل ڈیکر فلائی اوور منصوبے کے حوالے سے مرکزی وزارت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سابقہ ٹینڈرنگ عمل میں مناسب مالی منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، تاہم موجودہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
