قومی پرچم کی بے حرمتی کا الزام بے بنیاد، کرناٹک ہائی کورٹ نے اسکول پرنسپل کے خلاف مقدمہ منسوخ کر دیا

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک سرکاری ہائی اسکول کے پرنسپل کے خلاف قومی پرچم کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں شروع کی گئی فوجداری کارروائی کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اس شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی تھی کہ پرنسپل نے جوتے پہن کر قومی پرچم پر کھڑے ہو کر تصویر بنوائی اور اسے سوشل میڈیا اسٹیٹس کے طور پر اپ لوڈ کیا گیا۔

جسٹس ایم ناگاپراسنا نے بینگلور کے ناگاسندرا علاقے میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول کے پرنسپل وینوگوپال بی سی کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ درخواست گزار نے درحقیقت قومی پرچم پر کھڑے ہو کر تصویر بنوائی ہو۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جس تصویر کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا، وہ دراصل ایڈیٹ شدہ تھی۔ پرنسپل کی تصویر کسی اور مقام پر لی گئی تھی، جسے بعد میں قومی پرچم کے پس منظر میں شامل کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ پرچم پر کھڑے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں فوجداری کارروائی کو جاری رکھنا قانون کے عمل کا غلط استعمال ہوگا۔

یہ مقدمہ 5 اکتوبر 2024 کو ہیومن رائٹس پروٹیکشن کمیٹی چکبانوارا کے صدر بی ایم چکنا کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ 2 اکتوبر کو گاندھی جینتی کی تقریبات کے دوران اسکول کے احاطے میں پرنسپل کو قومی پرچم پر چپل سمیت کھڑا دکھایا گیا، جس کی تصویر واٹس ایپ اسٹیٹس پر وائرل ہوئی۔

عدالت نے درخواست گزار کے اس مؤقف کو بھی تسلیم کیا کہ گاندھی جینتی کے پروگرام کے دوران ان کا موبائل فون لائیو کوریج کے لیے ایک طالب علم کو انٹرنیٹ ہاٹ اسپاٹ کے مقصد سے دیا گیا تھا۔ اسی طالب علم نے پرنسپل کی تصویر کو ایڈیٹ کر کے بغیر اجازت اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر اسٹیٹس کے طور پر پوسٹ کر دیا۔

پرنسپل کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ وہ ایک سخت نظم و ضبط کے حامل استاد ہیں اور مذکورہ طالب علم نے انہیں بدنام کرنے کی نیت سے یہ شرارتی حرکت کی۔ بعد ازاں اس طالب علم نے اپنے والدین کے ہمراہ اسکول انتظامیہ کے سامنے معافی نامہ بھی جمع کرایا۔

ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہائی کورٹ نے قومی عزت کی توہین کی روک تھام ایکٹ 1971 کے تحت درج مقدمہ اور اس سے متعلق تمام کارروائیوں کو منسوخ کر دیا۔