جامعہ اسلامیہ کا 64 واں سالانہ جلسہ ، طلباء کے نتائج کے ساتھ علماء کرام کے خطابات
بھٹکل (فکروخبرنیوز) جامعہ اسلامیہ وارثین انبیاء پیدا کرتا ہے۔ جامعہ میں پڑھائے جانے والے مختلف علوم کے ساتھ طلبہ کے اندر عربی زبان وادب کا ذوق اس لیے پیدا کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ براہ راست قرآن اور حدیث کو سمجھ سکیں۔ جامعہ اسلامیہ کے 64 ویں سالانہ جلسے میں نائب مہتمم جامعہ مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت ایک بڑی امانت ہے انہوں نے طلبہ سے کہا کہ صبح سے شام تک جامعہ میں وہ جو وقت گزارتے ہیں اس امانت کے تعلق سے اللہ تعالی سوال کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کا حق ادا کرنا طلبہ پر ضروری ہے۔ مولانا نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ طلبہ اگر محنت کریں گے تو علم کے میدانوں میں آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محنت سے جی چرانے والے کامیاب نہیں ہوتے۔
سالانہ جلسے میں جامعہ اسلامیہ کے استاد حدیث و تفسیر مولانا انصار صاحب خطیب ندوی نے بھی طلبہ کے مقام و مرتبے پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ معلومات کے ساتھ معمولات پر بھی توجہ دیں۔ مولانا انصار صاحب نے طلبہ کے سرپرستوں سے کہا کہ طلباء کی نگرانی صرف اساتذہ کی نہیں بلکہ سرپرستوں کی بھی ذمہ داری ہے اور اساتذہ کی تربیت اسی وقت رنگ لا سکتی ہے جب سرپرست بھی اپنی طرف سے ان پر توجہ دیں۔ مولانا انصار صاحب نے موجودہ دور میں مدارس کی اہمیت سمجھاتے ہوئے کہا کہ فکری ارتداد کے اس دور میں مدارس کے طلبہ بے دینی کو روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہر بھٹکل کے معروف عالم دین جامعہ اسلامیہ کے رکن عاملہ و استاد تفسیر مولانا الیاس فقیہ احمدا ندوی نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر عوام کو علماء سے بدظن کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کی اہمیت سے مدارس کے دشمن زیادہ واقف ہیں اور وہ لالچ دے کر علماء کو اور طلبہ کو مقاصد سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مولانا الیاس صاحب نے طلبہ کو حوصلہ دیا کہ اگر امتحانات میں ان کے نمبرات کم آتے ہیں تو انہیں کبھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ نمبر ات سے زیادہ اس بات کی فکر کی جانی چاہیے کہ اللہ تعالی آپ سے مستقبل میں کیا کام لے رہا ہے۔
اس سے پہلے مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے جامعہ اسلامیہ کی 64 ویں سالانہ رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے جامعہ کے بانیان کو اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کی۔ مولانا نے اپنی رپورٹ میں جامعہ کے طلبہ کی کارکردگی سمیت جامعہ کے مختلف شعبہ جات کی تفصیلی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی۔
اجلاس کا اغاز جامعہ اسلامیہ شعبہ حفظ کے استاد مولانا حسان موٹیا ندوی کی تلاوت سے ہوا اس کے بعد جامعہ اسلامیہ کے شعبہ ثانویہ کے استاد سید احمد سالک ندوی نے بارگاہ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ استاد جامعہ مولانا اقبال نائطے ندوی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور مولانا زفیف شنگیری نے جامعہ کا ترانہ پیش کیا۔
اجلاس کے آخیر میں طلبہ کے نتائج پیش کیے گئے جس کی تفصیلات یوں ہیں ۔
شعبہ ثانویہ میں سب سے نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ :
اول: عبداللہ ابن فیض احمد شریف 99.07%(چہارم عربی)
دوم: محمد اسعد ابن عدنان قاضی ندوی 98.86%(سوم عربی)
سوم: محمد لئیق ابن حبیب اللہ معلم 98%(اعدادیہ ثانیہ)
شعبہ عالیہ میں سب سے نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ :
اول: محمد خبیب ابن انور حسین چنّا (عالیہ اولیٰ ج) 98.52%
دوم: روضان ابن اسمعیل سرجیخان (عالیہ اولیٰ ھ) 98.33%
سوم: زیاد ابن محمد انیس کھروری (عالیہ اولیٰ ب) 97.54%
صدر جامعہ مولانا عبدالعلیم صاحب قاسمی کے مختصر صدارتی خطاب کے بعد سابق مہتمم جامعہ و رکن شوریٰ مولانا محمد فاروق قاضی ندوی کی دعا پر اذان ظہر سے قبل جلسہ اختتام کو پہنچا۔
اس جلسے میں طلبہ کے سرپرستوں کے ساتھ شہر بھٹکل کے معززین بڑی تعداد میں شریک تھے۔
