بھٹکل (فکرخبرنیوز) رمضان المبارک کے آغاز کو تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور دنیا بھر کی طرح بھٹکل میں بھی اس بابرکت مہینے کی روحانی فضا پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ دن کے اوقات میں روزہ اور رات کے وقت نمازِ تراویح کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے میں مصروف ہیں۔
بھٹکل شہر میں تقریباً سو کے قریب مساجد ہیں، جہاں ہر مسجد میں نمازِ تراویح کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ زیادہ تر مساجد میں چار چار اور پانچ پانچ حفاظ خوش الحان آواز میں قرآنِ مجید سنانے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ بعض مساجد میں چھ اور آٹھ حفاظ بھی تراویح میں شریک ہیں۔ حفاظ کی کثرت اور ان کی دلنشین تلاوت نے شہر کی مساجد کو نور اور سکون کا گہوارہ بنا دیا ہے۔
بھٹکل میں تراویح کے دوران مکمل قرآنِ مجید سنانے کی روایت کئی دہائیوں سے قائم ہے۔ مقامی بزرگوں کے مطابق اسی کی دہائی میں یہ صورتحال تھی کہ ہر مسجد میں بمشکل ایک یا دو حافظ دستیاب ہوتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن کا رجحان بڑھتا گیا اور اس کے نتیجے میں حفاظ کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ بیشتر مساجد میں بیک وقت متعدد حفاظ تراویح میں قرآنِ مجید سنا رہے ہیں۔ ان حفاظ کے انتخاب کا عمل بھی باقاعدہ اور منظم ہوتا ہے، جس کے لیے مہینوں پہلے تیاری شروع کر دی جاتی ہے۔ مساجد کی انتظامیہ حفاظ کی تجوید، خوش الحانی اور ضبطِ قرآن کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا انتخاب کرتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تراویح میں متعدد حفاظ کی موجودگی سے نہ صرف نماز میں روانی برقرار رہتی ہے بلکہ سامعین کو بھی قرآنِ کریم کی تلاوت زیادہ انہماک اور خشوع کے ساتھ سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس روحانی ماحول نے نوجوانوں اور بچوں میں بھی حفظِ قرآن کی طرف رغبت میں اضافہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران بھٹکل کی مساجد میں نمازِ تراویح کے ساتھ ساتھ دروسِ قرآن، دینی بیانات اور دیگر عبادات کا بھی خصوصی اہتمام کیا جارہا ہے، جس سے پورا شہر ایک روحانی اور ایمانی فضا میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔
