مرکزی بجٹ 2026: اپوزیشن کی شدید تنقید ، پڑھئے کس نے کیا کہا

نئی دہلی: لوک سبھا کے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے یونین بجٹ 2026-27 پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر پوسٹ کیا، بے روزگار نوجوان۔گرتی ہوئی مینوفیکچرنگ، سرمایہ کار سرمایہ نکال رہے ہیں، گھریلو بچتیں گر رہی ہیں۔

کسان پریشانی میں، عالمی جھٹکے، سب کو نظر انداز کر دیا گیا۔

راہل گاندھی نے کہا، ایک ایسا بجٹ جو اصلاح نہیں چاہتا، ہندوستان کے حقیقی بحرانوں سے انجان ہے۔

اس سے قبل راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں مرکزی بجٹ 2026-27 پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ پیر کو پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر بات کریں گے۔ راہل گاندھی نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’میں پارلیمنٹ کے ذریعہ فراہم کردہ پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے کل بات کروں گا۔

کانگریس نے بجٹ پر تنقید کی:

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایکس پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے لکھا، مودی سرکار کے پاس اب کوئی آئیڈیا نہیں بچا۔ بجٹ 2026 ہندوستان کے بہت سے معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجوں کا ایک بھی حل فراہم نہیں کرتا ہے۔

وہیں، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ، ” یہ (بجٹ 2026) مکمل طور پر بے وقعت تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ، تقریر بھی غیر شفاف تھی کیونکہ اس میں اہم پروگراموں اور اسکیموں کے لیے بجٹ میں مختص کی جانے والی رقم کا کوئی اندازہ پیش نہیں کیا گیا۔

ششی تھرور نے بجٹ پر اٹھائے سوال:

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور بجٹ کی کچھ باتوں سے ناراض نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ، "ہمیں بہت کم تفصیلات ملی ہیں۔ 3-4 سرخیاں تھیں، لیکن ہم آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ کہاں ہے؟ ہم یہ کیرالہ میں چاہتے تھے۔ ہمارے پاس آیوروید کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ لیکن ہم نے کیرالہ کا نام نہیں سنا۔ ہم نے ماہی گیروں اور ناریل کے نام سنے – یہ کیرالہ ہو سکتا ہے، لیکن جب انہوں نے جہاز کی مرمت کی بات کی تو وارانسی اور پٹنہ کے ناموں کا ذکر کیا لیکن کیرالہ کا نہیں۔ یہ قدرے حیران کن ہے۔

جھوٹ کا پلندہ: ممتا بنرجی

یونین بجٹ پر، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ، ” انہوں (نرملا سیتا رمن) نے تین راہداریوں کے بارے میں جو کہا وہ بالکل جھوٹ کا پلندہ ہے۔ صریح جھوٹ۔ یہ پہلے سے ہی عمل میں ہے اور ہم نے وہاں کام شروع کر دیا ہے۔ پرولیا میں جنگل محل جنگل سندری پروجیکٹ میں، اس اقتصادی راہداری کے لیے 72،000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہونے والی ہے، انہوں نے بنگال کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا ہے۔ صرف ایک ٹیکس ہے، جی ایس ٹی۔ وہ ہمارے پیسے چھین رہے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمیں پیسے دے رہے ہیں۔ یہ ہمارا پیسہ ہے، اس لیے ان کے پاس حکومت چلانے اور ملک کو اس طرح ختم کرنے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں ہے۔

ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر ملک کے معاشی ڈھانچے، آئینی ڈھانچے اور آزاد ایجنسیوں تباہ کرنے کا الزام لگایا۔

‘پھینکو اور لپیٹو’ بجٹ: شتروگھن سنہا

مرکزی بجٹ پر، ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے اپنے الگ انداز میں تبصرہ کیا۔ انھوں نے کہا، "یہ ‘فینکو اور لپیٹو’ بجٹ ہے۔۔۔ یہ بجٹ وکست بھارت کے لیے نہیں ہے۔ اس میں روزگار یا ملک کے موجودہ قرضوں پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کے پاس بہت سی ریاستوں کی رقم واجب الادا ہے۔ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کون سی اسکیم لائی گئی؟ یہ بجٹ درجہ بندی کے لائق نہیں ہے۔”

بجٹ صرف پانچ فیصد لوگوں کے لیے: اکھلیش یادو

مرکزی بجٹ پر سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ "یہ بجٹ غریبوں اور گاؤں میں رہنے والوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس بجٹ میں کوئی نوکری یا روزگار نہیں دیا گیا ہے۔ بی جے پی کا بجٹ ملک کے صرف 5 فیصد لوگوں کے لیے ہے”۔