مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں یوٹیوب چینل فور پی ایم نیوز کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے مارچ میں ہندوستان مخالف جذبات پھیلانے اور پہلگام دہشت گردی حملے میں ہندوستانی حکام کے ملوث ہونے جیسے دعووں کی تشہیر پر بلاک کیا گیا تھا۔ حکومت نے عدالت میں داخل اپنے حلف نامے میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ مذکورہ چینل کا مواد ’’ڈیجیٹل لابنگ‘‘ کی مثال ہے، جس کے ذریعے غیر ملکی عناصر ہندوستان کی خودمختار پالیسی سازی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مرکزی حکومت کے مطابق 12 مارچ کو قومی سلامتی اور عوامی نظم و نسق سے متعلق خدشات کے پیش نظر چینل کو بلاک کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد فور پی ایم نیوز اور اس کے ایڈیٹر سنجے شرما نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نہ تو گوگل اور نہ ہی وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انہیں چینل بند کرنے کا باضابطہ حکم یا وجوہات فراہم کیں۔
جواب میں حکومت نے عدالت کو بتایا کہ چینل مسلسل قیاس آرائی، یک طرفہ رپورٹنگ، نقصان دہ اور بے بنیاد مواد نشر کر رہا تھا۔ حلف نامے میں کہا گیا کہ چینل پر اپ لوڈ ویڈیوز میں حکومت ہند پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے، جن میں اسٹریٹجک خودمختاری سے سمجھوتہ، مغربی ایشیا میں فوجی کارروائیوں کی پیشگی معلومات رکھنے اور بیرون ملک ہندوستانیوں کو خطرے میں ڈالنے جیسے دعوے شامل تھے۔
مرکز نے مزید الزام لگایا کہ چینل نے دہشت گردی، جموں و کشمیر، منی پور اور اندرونی سلامتی سے متعلق حساس معاملات پر جھوٹی، اشتعال انگیز اور عدم استحکام پیدا کرنے والی معلومات پھیلائیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ فور پی ایم نیوز نے پہلگام دہشت گردی حملے کے بعد ہندوستانی فوجی ردعمل کی صداقت پر بھی سوال اٹھائے اور ایسے من گھڑت بیانیے پیش کیے جو مسلح افواج پر عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 25 اپریل 2025 کو پہلگام کے قریب بیسران علاقے میں دہشت گرد حملے میں 26 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے سیاحوں کے نام پوچھ کر ان کا مذہب معلوم کیا اور پھر انہیں نشانہ بنایا۔ ہلاک شدگان میں اکثریت ہندو برادری سے تعلق رکھتی تھی۔
مرکزی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی آن لائن مواد قومی سلامتی، خودمختاری، دفاع یا عوامی نظم کے لیے خطرہ ہو تو حکومت اسے ہٹانے یا بلاک کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ وزارت کے مطابق فور پی ایم نیوز کا طرز عمل ایک ’’ڈیجیٹل ایکو چیمبر‘‘ جیسا تھا، جہاں مخصوص اور بار بار دہرایا جانے والا مواد ایک خاص بیانیہ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب چینل کے ایڈیٹر سنجے شرما پہلے بھی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ حکومت تنقیدی صحافت کو دبانے کے لیے بار بار ان کے پلیٹ فارم پر پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ اس سے قبل اپریل 2025 میں بھی اسی یوٹیوب چینل کو قومی سلامتی اور عوامی نظم کا حوالہ دیتے ہوئے بلاک کیا گیا تھا۔
یہ معاملہ اب اظہار رائے کی آزادی، ڈیجیٹل میڈیا کی حدود، قومی سلامتی اور سرکاری اختیارات کے استعمال سے متعلق ایک اہم قانونی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس پر دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔




