جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں ایک نوجوان پر مبینہ طور پر گاؤ رکشکوں کے حملے اور اس کے بعد لاپتہ ہونے کے واقعہ پر میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گائے کی حفاظت کے نام پر تشدد کا رجحان اب جموں و کشمیر تک پہنچ چکا ہے، جو انتہائی افسوسناک اور خطرناک علامت ہے۔
تفصیلات کے مطابق 25 سالہ تنویر احمد چوپان، جو ضلع رامبن کے علاقہ اُکھڑال پوگل کا رہنے والا تھا، اتوار کے روز جموں سے اپنے آبائی گاؤں جا رہا تھا۔ وہ اپنی ٹاٹا موبائل گاڑی میں ایک دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑے لے جا رہا تھا، جب راستے میں مبینہ طور پر گاؤ رکشکوں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے روک کر مار پیٹ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق، حملے سے بچنے کی کوشش میں تنویر احمد نے قریبی نالہ بشلری میں چھلانگ لگا دی، جہاں تیز بہاؤ کے باعث اس کے بہہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعہ کے بعد گزشتہ تین دن سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم اب تک نوجوان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے، جس سے اہل خانہ اور مقامی لوگوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس معاملے نے پورے علاقے میں کشیدگی پیدا کر دی ہے اور سرینگر-جموں قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
میر واعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے واقعات سماج میں نفرت اور عدم برداشت کو بڑھاوا دیتے ہیں اور اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملک کے مختلف حصوں میں گاؤ رکشا کے نام پر تشدد کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، لیکن جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں اس نوعیت کے واقعات نے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ مقامی آبادی اور سیاسی قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی غیر قانونی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔
ادھر پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے اور چار افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کی مکمل جانچ کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔




