نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے کیسز میں بھی ضمانت ایک ضابطہ ہونا چاہیے اور جیل ایک استثناء ہونا چاہیے۔ عدالت نے دہلی فسادات 2020 کیس میں سماجی کارکن عمر خالد کو ضمانت دینے سے انکار کرنے والے ایک اور بینچ کے سابقہ فیصلے سے بھی اختلاف کیا۔
جسٹس بی وی ناگرتھنا اور اجول بھویان کی بنچ نے جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہندواڑہ کے رہنے والے سید افتخار اندرابی کو ضمانت دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ وہ جون سال 2020 سے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعہ زیر تفتیش نارکو ٹرر کیس میں جیل میں تھے۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ یو اے پی اے کے معاملات میں بھی ضمانت عام بات ہونی چاہیے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی ملزم اسے صرف اس لیے تیزی سے مقدمہ چلنے کا حق نہیں چھینا جا سکتا کہ ان پر انسداد دہشت گردی کے سخت قانون کے تحت فرد کیس درج کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی بنچ نے گلفشہ فاطمہ بمقابلہ ریاست کے فیصلے سے بھی سخت اعتراض ظاہر کیا، جو دہلی فسادات کے کیس میں ضمانت کی درخواستوں سے متعلق تھا۔ اس کیس میں جہاں متعدد ملزمان کی ضمانت دے دی گئی تھی، وہیں سپریم کورٹ نے سماجی کارکنوں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔
بنچ کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس بھویاں نے کہا کہ انہیں گلفشہ فاطمہ کیس کے فیصلے پر شدید اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نجیب کیس (ایک پرانا عدالتی فیصلہ جس کے تحت کسی ملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا) یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کا ایک بہت ہی محدود اور بطور استثناء خلاف ورزی ہے، جسے صرف بے حد خاص حالات میں ہی درست ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
بنچ نے کہا کہ نجیب کیس کے بنیادی پیغام اور اہمیت کو اس طرح کم کیا جانا ہی تشویشناک ہے۔ جسٹس بھویان نے کہا کہ نجیب کیس کے وسیع تر نظریے سے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ محض وقت گزرنے کی بنیاد پر ہی، اگر حالات ویسے ہوں تو ملزم کو جیل سے رہا ہونے کا حق مل جاتا ہے۔
بنچ نے یہ مزید کہا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے تحت ضمانت پر قانونی پابندی ایک محدود پابندی ہونی چاہیے، جو آئین کے آرٹیکل 21 (زندگی کا حق) اور 22 (گرفتاری سے تحفظ) کے تحت ملنے والی گارنٹی کے دائرہ کار میں کام کرے۔ بنچ نے واضح طور پر کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یو اے پی اے کے تحت بھی ضمانت کا قاعدہ ہے جب کہ جیل ایک مستثنیٰ ہے۔ تاہم، کسی خاص کیس کے حقائق اور حالات کی بنیاد پر ضمانت سے انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔



