وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے دنیا بھر کی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی ہے۔ یہ پاناما پر 1989 کے حملے کے بعد لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کی سب سے براہ راست مداخلت ہے— ایک ایسا قدم جو سرد جنگ کے دور کی مداخلتی پالیسی کی یاد دلاتا ہے، جسے بہت سے لوگ تاریخ کا حصہ سمجھ چکے تھے۔ یہ واقعہ بظاہر ایک فوجی آپریشن کی کامیابی لگتا ہے، لیکن اس کے فوری نتائج سے پرے، اس بحران نے امریکی سیاست، بین الاقوامی قانون اور مغربی نصف کرہ کی حالت کے بارے میں کئی چونکا دینے والے اور اہم حقائق کو بے نقاب کیا ہے۔یہ انکشافات صرف وینزویلا کے مستقبل کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی نظام کے لیے بھی گہرے مضمرات رکھتے ہیں۔ امریکی کانگریس کو گمراہ کرنے سے لے کر اقوام متحدہ کی شدید مذمت اور لاطینی امریکہ کی گہری تقسیم تک، مادورو کی معزولی کے بعد کی صورتحال ایک سادہ کہانی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ذیل میں اس بڑے جغرافیائی و سیاسی واقعے سے سامنے آنے والے چار سب سے زیادہ مؤثر اور غیر متوقع نتائج کا جائزہ لیا گیا ہے، جو یہ واضح کرتے ہیں کہ اس مداخلت کے اثرات کاراکاس کی سڑکوں سے کہیں زیادہ دور تک محسوس کیے جائیں گے۔
1۔ امریکی کانگریس کو گمراہ کیا گیا
امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان سے بار بار جھوٹ بولا۔ تاہم، اس دھوکہ دہی پر ردعمل یکساں نہیں تھا، بلکہ اس نے کانگریس کے اندر گہری نظریاتی تقسیم کو بے نقاب کر دیا۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، حالیہ بریفنگز کے دوران انہیں مسلسل یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی یا فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما سینیٹر چک شومر نے کہا کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ انتظامیہ حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتی۔ ڈیموکریٹک نمائندے سیتھ مولٹن نے کہا کہ جب ہم نے پوچھا، ‘کیا آپ ملک پر حملہ کرنے جا رہے ہیں؟’ ہمیں کہا گیا نہیں۔ ‘کیا آپ کا زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ ہے؟’ ہمیں کہا گیا نہیں۔ ‘کیا آپ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں؟’ ہمیں کہا گیا نہیں… تو ایک طرح سے، ہمیں بریفنگ تو دی گئی، لیکن ہم سے سراسر جھوٹ بولا گیا۔”
اس کے برعکس، زیادہ تر ریپبلکنز نے صدر ٹرمپ کی کارروائی کی تعریف کی۔ سینیٹ میں ریپبلکن اکثریت کے رہنما جان تھون نے اسے “ناقابل قبول جمود کو توڑنے اور مادورو کو پکڑنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی” قرار دیا۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن نمائندے ماریو ڈیاز-بلارٹ نے اس کارروائی کو کیوبا اور نکاراگوا کی “آمریتوں” کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا، “اگلے دو کی باری ہے، ان کے دن بھی گنے جا چکے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے کانگریس کو مکمل طور پر مطلع نہ کرنے کا جواز یہ پیش کیا کہ “کانگریس میں معلومات لیک ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔” یہ واقعہ نہ صرف انتظامیہ اور قانون سازوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی پر کانگریس خود کس قدر منقسم ہے۔
2۔ اقوام متحدہ نے اسے ایک خطرناک مثال قرار دیا
امریکی مداخلت پر بین الاقوامی ردعمل بھی اتنا ہی شدید رہا ہے، خاص طور پر دنیا کے سب سے بڑے قانونی ادارے، اقوام متحدہ کی جانب سے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات “ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔علاوہ ازیں، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر، اینالینا بیئربوک نے اس مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہوئے بیان دیا کہ “سب کے لیے ایک پرامن، محفوظ اور منصفانہ دنیا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس’ کے بجائے قانون کی حکمرانی قائم ہو۔”
تاہم، اقوام متحدہ کا مؤقف مادورو حکومت کا دفاع نہیں تھا، بلکہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا دفاع تھا۔ وینزویلا پر اقوام متحدہ کے حقائق تلاش کرنے والے آزاد مشن نے اس نکتے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ “اس طرح کی مداخلت کی غیر قانونی حیثیت وینزویلا کے حکام کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف، سالہا سال کے جبر کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی۔” یہ باریک بینی ظاہر کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کی مذمت امریکی کارروائی کو محض ایک سیاسی انتخاب کے طور پر نہیں، بلکہ عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے طور پر دیکھتی ہے، چاہے ملوث کردار کوئی بھی ہوں۔
3۔ لاطینی امریکہ متحد نہیں، منقسم ہے
یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید پورا لاطینی امریکہ امریکی مداخلت کی مذمت کرے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ خطے کا ردعمل یکساں نہیں رہا، بلکہ نظریاتی بنیادوں پر شدید تقسیم کا شکار تھا۔ اس تقسیم نے خطے کے اندر موجود سیاسی دراڑوں کو واضح کر دیاہے۔ ایک طرف، بائیں بازو کی حکومتوں نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی۔ کولمبیا کے صدر گستاو پیترو نے اسے “وینزویلا کی خودمختاری کے خلاف جارحیت” قرار دیا، اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ناقابل قبول حد کو عبور کرنا ہے۔”
دوسری جانب، دائیں بازو کے رہنماؤں نے امریکی کارروائی کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ارجنٹائن کے صدر جیویر ملی نے اس کی حمایت میں بیانات جاری کیے، جبکہ ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا نے مزید آگے بڑھتے ہوئے کہا، “تمام مجرم نارکو-شاویستوں (منشیات فروش شاویز کے پیروکار) کا وقت آئے گا۔” چلی میں بھی سبکدوش ہونے والے صدر اور نومنتخب صدر کے درمیان ردعمل منقسم نظر آیا۔ یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ سرد جنگ کے بعد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے بارے میں کوئی متفقہ مؤقف موجود نہیں ہے، بلکہ یہ اب بھی ایک گہری نظریاتی تقسیم کا موضوع ہے۔
4۔ امریکہ کی خطے کے پولیس مین کے طور پر واپسی
شاید اس پورے واقعے کا سب سے اہم اور تاریخی نتیجہ یہ ہے کہ اس نے خطے میں امریکی خارجہ پالیسی کے ایک نئے دور کا اشارہ دیا ہے۔ ماہرین اسے سرد جنگ کے بعد کی پالیسی سے ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جہاں امریکہ نے براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا تھا۔ ‘امریکاز کوارٹرلی’ کے ایڈیٹر ان چیف، برائن ونٹر، نے اس تبدیلی کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک اہم نکتہ پیش کیا : “یہ آپریشن واشنگٹن کی اپنے ‘دائرہ اثر’ میں پولیس مین کی حیثیت سے واپسی کی تصدیق کرتا ہے، ایک ایسا نظریہ جس نے 19ویں اور 20ویں صدی کے بیشتر حصے کی تعریف کی لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے معدوم ہو گیا تھا۔”
اس “واپسی” کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر لاطینی امریکہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یکطرفہ فوجی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ اس نے ماضی میں کئی بار کیا تھا۔ یہ پیشرفت نہ صرف خطے کی خودمختاری کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور واشنگٹن اپنے روایتی “پچھواڑے” پر اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وینزویلا میں امریکی مداخلت کے فوری نتائج سے پرے، اس واقعے نے مندرجہ بالا چار اہم حقیقتوں کو بے نقاب کیا ہے: امریکی انتظامیہ کی طرف سے کانگریس کو گمراہ کرنا، اقوام متحدہ کا امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینا، لاطینی امریکہ میں گہری نظریاتی تقسیم، اور خطے میں امریکہ کے ایک زیادہ جارحانہ کردار کی ممکنہ واپسی۔ یہ نکات ظاہر کرتے ہیں کہ اس کہانی کے اثرات ابھی پوری طرح سامنے آنا باقی ہیں۔ جبکہ وینزویلا کی فوری تقدیر ابھی غیر یقینی ہے، امریکی حملہ نے دنیا کے لیے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا یہ واقعہ مداخلت کے ایک نئے دور کا اشارہ ہے، اور اس کی حقیقی انسانی، اسٹریٹجک اور اخلاقی قیمت کیا ہوگی؟
