مشرق وسطیٰ کا تنازعہ بھارت کے دروازے پر: راہل گاندھی نے پھر وزیراعظم کو بنایا نشانہ

نئی دہلی: راہل گاندھی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا جاری تنازعہ اب بھارت کے دروازے تک پہنچ چکا ہے، لیکن وزیر اعظم نے اس پر کوئی واضح بیان نہیں دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس نازک وقت میں ملک کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے مگر بھارت کو ایک “کمپرومائزڈ وزیر اعظم” ملا ہے جس نے ملک کی اسٹریٹجک خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ دنیا ایک غیر یقینی اور ہنگامہ خیز دور میں داخل ہو چکی ہے اور “آگے طوفانی سمندر ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔” انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی توانائی سلامتی شدید خطرے میں ہے کیونکہ ملک کی 40 فیصد سے زائد تیل درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہیں۔ ان کے مطابق ایل پی جی اور ایل این جی کی سپلائی کی صورت حال اس سے بھی زیادہ نازک ہے۔

کانگریس رہنما کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ نے سری لنکا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر غرق کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایرانی جہاز “میلان” بحری مشق میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا۔ “میلان” ایک کثیر ملکی بحری مشق ہے جس کی میزبانی بھارت کرتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں میڈیا بریفنگ کے دوران اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی دشمن جنگی جہاز کو ٹارپیڈو کے ذریعے ڈبویا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سری لنکن بحریہ نے 87 لاشیں برآمد کی ہیں جبکہ 32 افراد کو بچا لیا گیا۔ ڈوبنے والے ایرانی جہاز کی شناخت آئی آر آئی ایس دینا کے طور پر کی گئی ہے۔

یہ واقعہ خلیج فارس سے باہر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بڑی شدت کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے اور اس نے بحرِ ہند میں سمندری سلامتی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جسے عمومی طور پر بھارتی بحریہ کا اسٹریٹجک دائرہ اثر تصور کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے کیے تھے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائیاں کیں، جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن اور سعودی عرب شامل ہیں۔

حالیہ دنوں میں حملوں اور جوابی حملوں کے باعث یہ تنازعہ مزید وسیع ہو چکا ہے۔ بھارت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل کی اپیل کی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق راہل گاندھی کی تنقید نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ قومی سلامتی اور توانائی کے تحفظ جیسے اہم معاملات پر حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا سکتی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس تنازعے کے اثرات بھارتی معیشت اور خطے کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔