خام تیل ۱۳؍ فیصد مہنگا، قطر میں ایل این جی کا پروڈکشن بند

نئی دہلی (ایجنسیاں): ایران  پر اسرائیل اور امریکی حملہ کی قیمت پوری دنیا کو چکانی پڑسکتی ہے۔ خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے  والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی دھمکی  سے خلیجی ممالک سے ایند ھن کی سپلائی بری طرح متاثر ہوگی۔  اُدھر قطر انرجی   نے اپنے ٹھکانوں پر ایرانی ڈرون حملوں  کے بعد پروڈکشن روک دیا ہے۔  

خام تیل کی قیمتیں رو بہ عروج

بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت ۱۳؍فیصد بڑھ کر تقریباً۸۲؍۳۷؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں  جو جنوری۲۰۲۵ء کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔ حالانکہ  بعد میں قیمتوں میں کچھ کمی آئی اور برینٹ کروڈ گر کر۷۷ء۶۶؍ ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو اب بھی۶ء۶۱؍ فیصد زیادہ ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی)  کروڈ  ہندوستانی وقت کے مطابق منگل کی  صبح۷۱ء۲۶؍  ڈالر فی بیرل پر تھا۔ جمعہ کو برینٹ کی قیمت۷۳؍ ڈالر فی بیرل سے کچھ نیچے بند ہوئی تھی جبکہ جنوری کے آغاز میں یہ تقریباً۶۰؍ڈالر فی بیرل تھی۔

آبنائے ہرمز اور ہندوستان کا انحصار

ایران-امریکہ و اسرائیل تنازع  یں میں تیل کے انفرا اسٹرکچر اور بحری جہازوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔کم از کم ۳؍ ٹینکروں کو میزائل لگنے کی اطلاعات ہیں، جن میں ایک ملاح ہلاک ہوا ہے۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ ایران نےآبنائے ہرمز جو تیل کی نقل و حمل کا اہم عالمی راستہ ہے،  سے آمدورفت بند کر دی ہے۔ ہندوستان اپنی گھریلو ضرورت کا ۸۵؍ فیصد سے زیادہ تیل درآمد کرتا ہے  اور تقریباً نصف خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ۲۰۲۵ء میںہندوستان کی سالانہ خام تیل کی  درآمد میں  عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت (جو خلیج فارس میں واقع ہیں)   کا لگ بھگ۴۶؍ فیصد حصہ  تھے۔ ان ممالک سے آنےوالی سپلائی  آبنائے ہرمز سے گزرتی  ہے۔

قیمت ہندوستانی صارفین کو چکانی پڑسکتی ہے

اگر ایران کی تیل برآمدات میں کمی آتی ہے، خلیجی توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے، جہازوں کی  آمدو رفت متاثر ہوتی ہے  یا آبنائے ہرمز کو بند کیا جاتا ہےتو  سپلائی  متاثر ہونے کا جھٹکا تیل کی قیمتوں کو بڑھا سکتا  ہے۔

قطر انرجی نے ایل این جی کی پیداوار روک دی

قطر انرجی، جو دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی کمپنی ہے اور ہندوستان کیلئے مائع قدرتی گیس(ایل این جی ) کی  بڑی سپلائر ہے، نے پیر کو اعلان کیا کہ ایرانی ڈرون حملوں کے بعد اس نے ایل این جی کی پیداوار روک دی ہے۔اس سے قبل قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ایران سے داغے گئے ۲؍ ڈرون حملوں میں ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیاہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق ایک ڈرون نے مسائید انڈسٹریل سٹی میں ایک پاور پلانٹ کے پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرا ڈرون راس لفان انڈسٹریل سٹی میں ایک توانائی کی سہولت سے ٹکرایا۔قطر ہندوستان کا سب سے بڑا ایل این جی سپلائر ہے جو سالانہ تقریباً۱۱ء۴؍ ملین ٹن (MT) ایل این جی برآمد کرتا ہے، جو ملک کی کُل درآمدات کا۴۰؍فیصد سے زیادہ ہے۔