نیو دہلی: نیٹ پیپر لیک کے خلاف دہلی سمیت ملک گیر سطح پر آواز اٹھانے والے طلبہ و طالبات کے لیے سپریم کورٹ سے بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے آئین ہند کے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر درج تمام ایف آئی آرز (FIRs) کو منسوخ کرنے کا باضابطہ حکم دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے پرامن مظاہرین پر اس معاملے میں اب کوئی نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی، جبکہ متعلقہ ریاستوں کو پہلے سے زیرِ التوا چھان بین آگے نہ بڑھانے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے تحت دہلی، آسام، بہار اور مغربی بنگال میں طلبہ کے خلاف درج متعدد مقدمات فوری اثر سے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ تاہم دہلی پولیس کو ان 2,873 افراد پر قانونی پیش رفت کی اجازت دی گئی ہے جن پر پہلے سے مجرمانہ ہسٹری کا ریکارڈ موجود ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے بتایا کہ 20 سے 25 جولائی کے درمیان جنتر منتر اور ملحقہ علاقوں میں ہزاروں طلبہ نے صدائے احتجاج بلند کی تھی، جس کے نتیجے میں 13 الگ الگ ایف آئی آرز درج ہوئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی اور معاملہ سامنے آتا ہے تو ریاستیں بھی اس منسوخی کی مخالفت نہیں کریں گی۔
عدالتی کارروائی کے دوران NEET 2026 کے خدشات و تحفظات کے درمیان مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنے کا موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔ اعلیٰ ترین عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت اس سلسلے میں تین ماہ کے اندر ایک جامع پالیسی ترتیب دے گی، جس پر عدالت نے ہدایت دی کہ مدت کی تکمیل کے ساتھ ہی مستحقین کو معاوضے کی ادائیگی کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے۔
عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلے اور حکومتی یقین دہانی کے بعد، ‘سی جے پی’ (CJP) کے کو-کنوینر سورَو داس نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی موقف اور سالیسٹر جنرل کے مثبت رویے کو دیکھتے ہوئے تنظیم نے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ پر رکھا گیا مجوزہ احتجاجی مارچ واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فریقین باہمی اعتماد کے ساتھ کھلے ذہن سے گفتگو کریں تو ہر پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلے کا پرامن اور مناسب حل ممکن ہے۔




