ٹی ایم سی سے بغاوت کرکے ’این سی پی آئی ‘نامی غیر معروف پارٹی میں خود کو ضم کرنےوالے اراکین پارلیمان پر جہاں نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہےوہیں مغربی بنگال اسمبلی میں ممتا بنرجی سے علاحدہ ہوکر خود ’’اصل ٹی ایم سی‘‘ ہونے کا دعویٰ کرنےوالے گروپ کے کئی اراکین اسمبلی ریتو برتا بنرجی کا ساتھ دینے پر پچھتا رہے ہیں اور ممتا بنرجی کے پاس واپس آنا چاہتے ہیں۔ ممتا بنرجی سے بغاوت کرنے والوں کی کیفیت ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ‘‘جیسی ہوگئی ہے کیوں کہ بی جےپی نے کولکاتا میونسپل کارپوریشن الیکشن ان کے ساتھ مل کر لڑنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا ہے کہ ’’جن کے خلاف ووٹ مانگتے آئے ہیں اُن کو ساتھ لے کر ووٹ مانگنے کیسے جائیں گے؟‘‘
کولکاتا میونسپل کارپوریشن الیکشن میں ’’دھوکہ‘‘
بی جے پی نے سیونی گھوش، کاکولی گھوش دستیداراور سدیپ بندوپادھیائے سمیت ٹی ایم سی کے۲۰؍باغی اراکین پارلیمان جنہوں نے خود کو ’نیشنل سٹیزنز پارٹی آف انڈیا‘ (این سی پی آئی) میں ضم کرلیا ہے، نے اشارہ دیاتھا کہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کا الیکشن ان کا گروپ بی جےپی کے ساتھ مل کر لڑے گا مگر بی جے پی نےاتحاد کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بی جے پی کا مؤقف ہے کہ جن ٹی ایم سی امیدواروں اور اراکین کے خلاف وہ گزشتہ کئی برسوں سے عوام سے ووٹ مانگتی رہی ہے، انہیں اچانک ساتھ لے کر عوام کے درمیان جانا سیاسی طور پر مشکل ہوگا۔ پارٹی کے اندر یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو کل تک بدعنوانی اور دیگر معاملات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا، انہیں اب اتحادی بنا کر ووٹ کیسے مانگے جاسکتے ہیں۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کا الیکشن دسمبر۲۶ء میں ہونے کی توقع ہے۔ کے ایم سی میں۲۰۹؍نشستیں ہیں اور یہ انتخابات مغربی بنگال کی شہری سیاست میں ٹی ایم سی اور بی جے پی کیلئے اہم امتحان سمجھے جارہے ہیں۔
باغی خیمہ کے کئی اراکین واپسی کے متمنی
بنگال اسمبلی میں ترنمول کانگریس کے باغی اراکین میں جاری رسہ کشی کے درمیان رکن اسمبلی محمد قاسم صدیقی نےدعویٰ کیا ہے کہ ریتو برتا بنرجی کی قیادت والے باغی خیمہ میں شامل کئی ایم ایل اے ممتا بنرجی کے پاس لوٹنا چاہتے ہیں۔ قاسم صدیقی خود بھی ریتو برتا کے ساتھ بغاوت کرنےوالوں میں شامل ہیں تاہم پیر کو وہ ٹی ایم سی صدر ممتا بنرجی سے ملاقات کیلئےان کی رہائش گاہ پہنچے تھے۔سابق وزیر اعلیٰ سے ملاقات سے قبل انہوں نے کہا کہ’’ ہم دیدی کے پاس آئے ہیں۔ بات چیت کریں گے۔ میں ہمیشہ دیدی کے پاس آتا رہتا ہوں۔ آج بھی آیا ہوں۔ ‘‘اس کے بعد انہوں نے باغی دھڑے کو نشانہ بنایا۔ قاسم نے کہا کہ ’’وہاں موجود کئی اراکین اسمبلی واپس آنا چاہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ سب کو ریتو برتا بنرجی کی حقیقت معلوم ہورہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو ایم ایل اے اس وقت ریتو برتا کے ساتھ ہیں، وہ وہاں زیادہ دن نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’’وہ وہاں صرف چند دنوں کیلئے ہیں۔ وہ واپس آئیں گے۔‘‘ رکن اسمبلی قاسم صدیقی کا یہ بیان اسلئے اہم ہے کہ وہ خود باغی خیمہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ایسے میں ان کی واپسی اور دیگر اراکین اسمبلی کے واپس آنے کے دعوے سے ٹی ایم سی کے اندر نئی سیاسی مساوات پر بحث چھڑ گئی ہے۔ بہرحال انہوں نے ابھی ان اراکین اسمبلی کے نام نہیں ظاہر کئے جن کے واپس آنے کا امکان ہے۔
۲۰؍ اراکین پارلیمان کو نااہلی کا سامنا
اُدھر لوک سبھا میں بغاوت کرنے والے ٹی ایم سی کے ۲۰؍ اراکین پارلیمان کے سر پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔انہوں نے ٹی ایم سی سے علاحدہ ہوکر ’این سی پی آئی ‘ میں شمولیت اختیار کرنے کا دعویٰ تو کیا ہے مگر مذکورہ پارٹی کا لوک سبھا میں پہلے سے ایک بھی ایم پی نہیں تھا۔ یعنی اس پارٹی کی ’’پارلیمانی پارٹی‘‘کا کوئی وجود ہی نہیں ہے تو قانونی سوال یہ ہے کہ وہ کس میں ضم ہوئے ہیں۔ اراکین پارلیمان اور اسمبلی کسی بھی پارٹی کی قانون ساز پارٹی میں ہی ضم ہوسکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ٹی ایم سی نے ان کو نااہل قرار دینے کی مانگ کی ہے ۔اسپیکر اوم برلا کی سطح پر اس ضمن میں بروقت کارروائی نہ ہونے پر ابھیشیک بنرجی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے جس کے بعد برلا پر جلد فیصلے کا دباؤ ہے۔انہوں نے باغی اراکین کو نوٹس جاری کردیاہے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی انہیں نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔
ٹی ایم سی باغیوں کو پیچیدہ صورتحال کا سامنا
ٹی ایم سی میں ۲؍ الگ الگ سطحوں پر بغاوت ہوئی ۔ لوک سبھا میں بغاوت کرنےوالے ۲۰؍ اراکین نے خود کو ’این سی پی آئی‘ نامی پارٹی میں ضم کیا ہے جبکہ بنگال اسمبلی کے باغی خود کو ’ اصل ٹی ایم سی‘ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح یہ پیچیدگی ہے کہ ٹی ایم سی کے باغی ایم پی اور ایم ایل اے الگ الگ پارٹی کا حصہ بن گئے ہیں۔
باغیوں کیلئے دروازے بند: ابھیشیک بنرجی
اُدھر ٹی ایم سی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے باغیوں کی واپسی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑ کر مخالف خیمہ میں گئے، ان میں سے کسی بھی ’’غدار‘‘ کو دوبارہ ٹی ایم سی میں جگہ نہیں دی جائے گی۔ ابھیشیک بنرجی نے یہ بیان جمعہ کو طلبہ تنظیم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
ٹی ایم سی جلد واپس آئےگی: ممتابنرجی
ممتا بنرجی نے اسمبلی انتخابات میں شکست کے ۳؍ ماہ بعد دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ایم سی جلد ہی مغربی بنگال میں اقتدار میں واپس آئے گی۔ انہوں نےکولکاتا میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا بی جے پی پر انتخابات میں ’’دھوکہ‘‘ کرکے بنگال پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جےپی کے لوگ خود بی جےپی کو جواب دیں گے۔




