اتر پردیش کی سیاست میں سڑکوں پر نماز ادا کرنے اور مذہبی اجتماعات کے انعقاد پر ایک بار پھر سنگین بحث چھڑ گئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اکھلیش یادو نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سڑکوں اور شاہراہوں کے استعمال کے حوالے سے پہلے ہی سے قواعد و ضوابط اور قوانین موجود ہیں، لیکن موجودہ حکومت اور بی جے پی اس حساس معاملے کو اچھال کر محض اپنا سیاسی فائدہ اٹھانے کی ناپاک کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی کے طرزِ عمل پر وار کرتے ہوئے ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ اگر ملک میں کوئی جماعت سب سے بڑی ’ادھرمی‘ یعنی مذہب کے بنیادی اصولوں سے عاری ہے تو وہ بی جے پی ہے، جبکہ سماجوادی پارٹی ہمیشہ سماج کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے حکومت کے مذہبی اور سیکیورٹی سے متعلق دعووں کی قلعی کھولتے ہوئے ماضی کے ایک واقعے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حال ہی میں بار ایسوسی ایشن کے اراکین اور وکلاء اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے، جن کے ہاتھوں میں ہندو عقیدت کی مقدس کتاب ’رام چرتر مانس‘ بھی موجود تھی، لیکن یوپی پولیس نے ان کے احترام کا خیال رکھے بغیر ان پر وحشیانہ لاٹھی چارج کیا اور انہیں بے رحمی سے مارا پیٹا گیا۔ اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ اگر بی جے پی خود کو سناتن دھرم کی سچی پیروکار اور محافظ مانتی ہے، تو پھر اسے ہندوستانی تہذیب کے بنیادی اصول ’’واسودیو کٹمبکم‘‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، کی روح پر عمل کرنا چاہیے نہ کہ شہریوں کے درمیان تفریق پیدا کرنی چاہیے۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ یوپی میں نہ تو اسمارٹ سٹی بن پائے اور نہ ہی اسمارٹ میٹر کی اسکیمیں کامیاب ہو سکیں، جس کی وجہ سے حکومت کی گرتی ہوئی کارکردگی پر سوالات اٹھنا بالکل قدرتی ہے۔
یہ پورا تنازع اس وقت شروع ہوا جب اتوار کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک میڈیا پروگرام کے دوران انتہائی سخت موقف اپنایا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ اتر پردیش کے اندر اب کسی بھی صورت میں سڑکوں یا عوامی شاہراہوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دلیل دی کہ سڑکیں صرف اور صرف ٹریفک کی نقل و حرکت کے لیے ہوتی ہیں اور کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ چوراہوں یا سڑکوں کو بلاک کر کے عام شہریوں، ملازمین اور ہنگامی حالات میں مریضوں کی زندگی کو متاثر کرے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نماز اور دیگر عبادات کے لیے مخصوص مذہبی مقامات پہلے سے موجود ہیں اور لوگوں کو وہیں جانا چاہیے۔ اگر مساجد میں جگہ کم ہو تو مسلمان شفٹوں میں نماز ادا کر سکتے ہیں، لیکن سڑکوں پر کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں ہوگی۔
اپنے خطاب کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے آبادی کنٹرول کے حساس موضوع کو بھی چھیڑا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر ریاست میں وسائل اور زمین محدود ہے، تو شہریوں کو آبادی میں مسلسل اضافے کے اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح الفاظ میں وارننگ دی کہ جو لوگ قانون کے دائرے میں رہنا چاہتے ہیں، انہیں ان اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا کیونکہ حکومت نماز پڑھنے کے خلاف نہیں ہے، بلکہ سڑکوں پر مذہبی اجتماعات کے ذریعے قانون کو ہاتھ میں لینے کے خلاف ہے۔ انہوں نے بریلی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کچھ عناصر نے طاقت آزمائی کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حکومت نے اپنی انتظامی طاقت کا مظاہرہ کر کے انہیں قانون کا پابند بنا دیا۔ ان کے مطابق، یوپی حکومت ہر نظام کو سخت امن و امان کے دائرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے اور جو لوگ سمجھانے سے نہیں مانیں گے، ان کے خلاف سختی برتی جائے گی۔
اکھلیش یادو اور اپوزیشن رہنماؤں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیانیے کو مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے اور بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ قانونی اور سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ مذہبی آزادی اور عوامی نظم و نسق کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اسے کسی ایک مخصوص برادری کے خلاف طاقت کے مظاہرے یا سیاسی پولرائزیشن کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ سماجوادی پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ بی جے پی کی اس تفرقہ انگیز سیاست کے خلاف عوامی سطح پر آواز اٹھاتی رہے گی تاکہ ریاست کا امن برقرار رہے۔




