خام تیل 80 ڈالر پر آنے کے باوجود ہندوستانیوں کو ریلیف کیوں نہیں؟

ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پانے کے بعد عالمی مارکیٹ پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیز رفتار گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اس عالمی تبدیلی سے دنیا بھر میں مہنگائی کا گراف نیچے آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے، تاہم ہندوستانی صارفین کو فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی فوری فائدہ ملتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ مرکزی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے کے باوجود ملکی سطح پر ایندھن کے نرخوں میں فوری کٹوتی ممکن نہیں ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کے حوالے سے حکومت کا موقف جمعرات کے روز پٹرولیم، قدرتی گیس اور سیاحت کے مرکزی وزیر مملکت سریش گوپی کے بیان کے بعد پوری طرح صاف ہو گیا ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ضرور کم ہوئی ہیں، لیکن ہندوستان میں فیول کی قیمتوں کو فوراً کم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ملکی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں طے کرنے میں کئی پیچیدہ عوامل شامل ہوتے ہیں، جن میں بین الاقوامی مارکیٹ سے سستا تیل خریدنے اور اسے ہندوستان تک پہنچنے میں لگنے والا وقت سب سے اہم ہے۔

مرکزی وزیر مملکت نے حال ہی میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فی لیٹر تقریباً 3.94 روپے بڑھانے کا اثر ضرور پڑا ہے، لیکن صرف عالمی مارکیٹ کے رجحان کو دیکھ کر اس فیصلے کو فوراً واپس نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے جغرافیائی اور لاجسٹک چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سستا خام تیل ہندوستان تک آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے راستے پہنچتا ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ پر تجارتی جہازوں کی غیر معمولی آمد و رفت اور ہجوم کے باعث تیل کی ترسیل میں وقت لگتا ہے، اس لیے ملکی سطح پر حالات معمول پر آنے اور قیمتوں کے مستحکم ہونے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔

بین الاقوامی تناظر اور پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے سریش گوپی نے کہا کہ رواں سال فروری کے مہینے میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات پیدا ہوئے تو اس سے تیل کمپنیاں شدید متاثر ہوئیں اور سپلائی چین درہم برہم ہو گئی۔ اس بحران کے دوران مودی حکومت نے عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے مالی خسارے کا ایک بڑا حصہ خود اٹھایا۔ ان کے مطابق، اس عالمی بحران کے اثرات کو اپنے اوپر لینے کی وجہ سے مرکزی حکومت کو تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے گلہ کیا کہ اس دوران کسی بھی ریاستی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد اپنے ایکسائز ڈیوٹی یا ٹیکسوں میں کمی کر کے اپنے ریونیو کا نقصان نہیں اٹھایا، اس لیے اب مرکزی حکومت کو بھی ملک کا نظام چلانا ہے اور سرکاری تیل کمپنیوں کو بھی بازار میں برقرار رکھنا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد بالآخر امن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو تجارتی اور کمرشل جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد خام تیل اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ناکہ بندی ختم ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جو کبھی 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھیں، اب گر کر تقریباً 80 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہیں۔ تاہم، ہندوستانی عوام کو اس سستے تیل کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔

شیئر کریں۔