آبنائے ہرمز میں بڑی کارروائی، ایران نے قبضے میں لئے دو غیر ملکی تجارتی جہاز

ایران نے آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی تجارتی جہازوں کو قبضے میں لے کر اپنی ساحلی حدود کی جانب منتقل کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔

ایران کی پاسداران انقلاب فورس (IRGC) نے سرکاری میڈیا کے ذریعے دعویٰ کیا کہ دونوں جہازوں نے سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی اور پیشگی رابطے یا اجازت کے بغیر اس حساس آبی گزرگاہ میں داخل ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں تحویل میں لیا گیا۔

اس تازہ کارروائی سے ایک دن قبل بدھ کے روز بھی ایک اور واقعہ پیش آیا تھا، جس میں برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (UKMTO) کے مطابق عمان کے قریب ایک کنٹینر جہاز پر ایرانی گن بوٹ نے فائرنگ کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کے کپتان نے بتایا کہ فائرنگ سے پہلے ایک ایرانی کشتی نے جہاز کا راستہ روکا تھا۔

برطانوی ادارے کے مطابق فائرنگ سے جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا، تاہم آگ نہیں لگی اور نہ ہی کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع ملی۔ تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک پانچواں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام پہلے بھی یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں، آئل ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کو ایرانی حکام خصوصاً پاسداران انقلاب سے اجازت اور رابطہ رکھنا ہوگا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں پر ممکنہ فیس یا دیگر ضابطے بھی نافذ کیے جائیں تاکہ ایران اپنے کنٹرول کو مزید مضبوط بنا سکے۔

دوسری جانب برطانوی سکیورٹی کمپنی وینگارڈ ٹیک نے دعویٰ کیا کہ جس کنٹینر جہاز پر فائرنگ ہوئی وہ لائبیریا کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل تھی۔

تاہم ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ جہاز نے ایرانی فورسز کی جانب سے جاری وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔

یہ تمام پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے بحیرہ عمان میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو امریکی قبضے میں لیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور مسلح بحری قزاقی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی تیل رسد، سمندری تجارت اور مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

شیئر کریں۔