کرناٹک میں قانون ساز کونسل کی سات اور راجیہ سبھا کی چار نشستوں کے لیے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں 18 جون کو پولنگ ہونا طے پائی ہے۔ اس سیاسی گہما گہمی کے درمیان فیڈریشن آف کرناٹک اسٹیٹ مسلم آرگنائزیشنز نے برسرِاقتدار کانگریس پارٹی کے سامنے مسلم کمیونٹی کی مناسب سیاسی نمائندگی کے لیے ایک اہم اور پرزور مطالبہ رکھ دیا ہے۔ کونسل کی سات نشستوں میں سے کانگریس کے کھاتے میں آسانی سے آنے والی چار سیٹوں میں سے کم از کم دو نشستیں اور راجیہ سبھا کی ایک نشست مسلم رہنماؤں کو دینے کی مانگ کی گئی ہے، تاکہ ریاست کے مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی محرومی کا ازالہ کیا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک کی مجموعی آبادی میں مسلم کمیونٹی کا تناسب تقریباً 13 فیصد ہے، جس کے لحاظ سے قانون ساز کونسل کی کل 75 نشستوں میں سے کم از کم 9 سے 10 مسلم اراکین ہونے چاہئیں، لیکن موجودہ وقت میں یہ تعداد محض 4 تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جو کہ منصفانہ نمائندگی کے نصف سے بھی کم ہے۔ فیڈریشن نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ریاست میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد کونسل کے لیے 15 اراکین کو منتخب کرنے کے بہترین مواقع موجود تھے، لیکن اس دوران صرف ایک مسلم چہرے کو موقع دیا گیا، جبکہ سال 2025 میں چار قانون ساز کونسل نشستوں کے لیے نامزدگیوں کے دوران ایک بھی مسلم امیدوار کو شامل نہیں کیا گیا۔
ملکی پارلیمنٹ میں کرناٹک کی نمائندگی کا گراف بھی مایوس کن صورتحال کی عکاسی کر رہا ہے۔ ریاست سے راجیہ سبھا کے کل 12 ارکان میں سے اس وقت صرف ایک مسلم رکن موجود ہے، جبکہ ماضی میں لوک سبھا میں کانگریس کی جانب سے کم از کم دو مسلم اراکین پارلیمان منتخب ہوا کرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد صفر ہو چکی ہے۔ کانگریس کی طرف سے مسلمانوں کو لوک سبھا ٹکٹ دیے جانے کی شرح صرف ایک تک گر گئی ہے، جس کے باعث پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ریاست کی مسلم برادری کی آواز انتہائی کمزور پڑ چکی ہے۔
ریاست میں موجودہ حکومت کی تشکیل اور کانگریس کو اقتدار کی کرسی تک پہنچانے میں مسلم ووٹروں نے ایک فیصلہ کن اور تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ مسلم کمیونٹی نے تمام تر سیاسی حالات کے باوجود متحد ہو کر کانگریس پارٹی کے حق میں یکطرفہ ووٹ دیا تھا اور کسی بھی دوسری کمیونٹی کے مقابلے میں مسلمانوں کا ووٹ فیصد کانگریس کے لیے سب سے زیادہ رہا ہے، جس نے پارٹی کو واضح اکثریت دلانے میں بنیادی ستون کا کام کیا۔
اس بھرپور انتخابی حمایت کے باوجود ریاستی کابینہ، قانون ساز کونسل، بیوروکریسی، اہم سرکاری اداروں، یونیورسٹیوں اور کارپوریشنوں میں مسلمانوں کی موجودگی ان کی آبادی اور سیاسی خدمات کے مقابلے میں انتہائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنجیدہ شکل اختیار کر لیتی ہے جب برادری کے اندر غیر ارادی طور پر یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ کانگریس ان حلقوں میں بھی مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے سے ہچکچاتی ہے جہاں جیت کے امکانات سو فیصد یقینی ہوتے ہیں۔
مسلم تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کانگریس پارٹی اس سیاسی خسارے کو پورا کرے اور کونسل انتخابات میں پارٹی کے مخلص مسلم رہنماؤں کو دو نشستیں تفویض کرے۔ یہ اقدام خود کانگریس کے قومی رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی کے ان فرمودات اور ہدایات کے عین مطابق ہوگا، جس میں انہوں نے پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور اقلیتی ونگ کو اس طرح فعال کرنے کی ہدایت دی تھی جس سے مسلم کمیونٹی کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ فیڈریشن نے زور دیا ہے کہ ہائی کمان کے ان نظریات کو زمین پر نافذ کرنے کی ذمہ داری اب ریاستی کانگریس قیادت پر عائد ہوتی ہے۔




