ہندوستان سے بنی میناشی کمیونٹی کے ۲۴۰؍ یہودی اسرائیل پہنچے، آبادکاری پر تنازع

اسرائیل نے ہندوستان سے تعلق رکھنے والی Bnei Menashe community کے تقریباً ۲۴۰؍ افراد کو تل ابیب کے قریب بین گیورن ایئرپورٹ پر وصول کیا، جو ایک وسیع حکومتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ برسوں میں ہزاروں افراد کو اسرائیلی معاشرے میں شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے اور آنے والے ہفتوں میں مزید گروپس بھی پہنچیں گے، جبکہ ۲۰۲۶ء کے اختتام تک تقریباً ۱۲۰۰؍ مزید افراد کی آمد متوقع ہے۔ طویل المدتی منصوبے کے تحت ۲۰۳۰ء تک تقریباً ۶؍ ہزار افراد کی مکمل منتقلی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ کمیونٹی بنیادی طور پر ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں میزورم اور منی پور سے تعلق رکھتی ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کی جڑیں قدیم اسرائیلی قبائل سے ملتی ہیں۔ تاہم، اسرائیلی قوانین کے مطابق، زیادہ تر نئے آنے والوں کو باضابطہ طور پر یہودیت قبول کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ انہیں مکمل شہریت دی جا سکے۔ اس منصوبے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت نے گزشتہ برس منظور کیا تھا، جس کا مقصد خاندانوں کو دوبارہ ملانا اور کمیونٹی کے انضمام کو آسان بنانا بتایا گیا ہے۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا تعلق مقبوضہ علاقوں میں آبادیاتی توازن تبدیل کرنے سے بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر مغربی کنارہ میں جہاں اسرائیلی بستیوں کی توسیع ایک متنازع مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ اور متعدد بین الاقوامی ادارے ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کے اندر ’’ریورس مائیگریشن‘‘ کا رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں ہزاروں اسرائیلی شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اسی تناظر میں اس نئے امیگریشن منصوبے کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیلی امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ اگلے چند مہینوں میں مزید تین گروپس ہندوستان سے پہنچیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نئے آنے والوں کے لیے رہائش اور انضمام پروگرام تیز کیے جا رہے ہیں، جن میں زبان اور مذہبی تربیت شامل ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر مقبوضہ علاقوں میں آبادیاتی تبدیلی سے متعلق خدشات اٹھائے ہیں اور اس پر بین الاقوامی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ امیگریشن پالیسی، مذہبی شناخت اور جغرافیائی سیاست کس طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں،خصوصاً ایسے خطے میں جہاں تاریخی، سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل پہلے ہی انتہائی حساس ہیں۔

شیئر کریں۔