وزیر اعظم مودی ایک سال میں اپنے عہدے پر نہیں رہیں گے، ملک میں ایمرجنسی جیسی صورتحال نافذ ہو سکتی ہے: راہل گاندھی کا سنسنی خیز دعویٰ

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ ‘آدیواسی کانگریس’ کی ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اب سے ایک سال بعد ملک کے وزیر اعظم نہیں رہیں گے، کیونکہ جس نظام پر وہ کبھی مکمل کنٹرول رکھتے تھے، وہ اب اندرونی طور پر شدید لرز چکا ہے اور تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کانگریس رہنما نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے شدید غصے اور احتجاج کو بے رحمی سے کچلنے کے لیے ملک میں ‘ایمرجنسی جیسی سخت ترین صورتحال’ نافذ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔

راہل گاندھی نے مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک کو بہت جلد ایک ہولناک ‘معاشی سونامی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے پچھلے چند برسوں میں ان تمام اقتصادی حفاظتی اقدامات اور شاک ابزاربرز کو یکسر ختم کر دیا ہے جو بھارت کو بین الاقوامی مالیاتی بحرانوں اور بیرونی اثرات سے محفوظ رکھتے تھے۔ انہوں نے عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور بھارت بہت جلد ایسے شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں آنے والا ہے جس کا تجربہ ملک کے شہریوں نے اپنی زندگیوں میں پہلے کبھی نہیں کیا ہوگا۔ اس معاشی بدحالی کا سب سے زیادہ اثر غریبوں، دلتوں، آدیواسیوں اور اقلیتی برادریوں پر پڑے گا جو پہلے ہی روزگار کی کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نبرد آزما ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران کانگریس رہنما نے ملکی اداروں کے اندر جاری مبینہ کشمکش کا پردہ فاش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت بھارت کے بڑے آئینی اور انتظامی اداروں کے اندر ایک خاموش ‘ادارتی بغاوت’ چل رہی ہے۔ انہوں نے سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے الیکشن کمیشن پر حکومت کا مکمل طور پر غیر قانونی کنٹرول قائم ہے، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق چیف الیکشن کمشنر، انٹیلیجنس نظام کے سربراہان اور اعلیٰ عدلیہ کے سینئر ججز اس وقت بی جے پی حکومت کے آمرانہ رویے کے خلاف اندرونی طور پر بغاوت کر رہے ہیں اور وہ خود اپوزیشن رہنماؤں کو حکومت کی اندرونی کارروائیوں اور سازشوں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

قائد حزب اختلاف نے واضح کیا کہ حکومت کا بیوروکریسی اور اداروں پر قائم کنٹرول کا روایتی نظام اب اندرونی طور پر مکمل طور پر بیٹھ رہا ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران اور آئینی اداروں کے سربراہان اب یہ اچھی طرح دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے اور اگر انہوں نے اسی غلط راستے پر چلنا جاری رکھا تو آنے والے وقت میں عوامی دباؤ اور غصہ اتنا شدید ہوگا کہ ان کے اپنے کیریئر اور سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کے عوام کو یہ صاف نظر آ جائے کہ انتخابی نظام میں دھاندلی ہو رہی ہے اور وہ سڑکوں پر نکل آئیں، تو کیا الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے خوفزدہ نہیں ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اب پہلے کی طرح طاقتور نہیں رہی اور وہ اقتدار پر اپنی گرفت تیزی سے کھو رہی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک اب اس سیاسی جدوجہد کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں حکومت عوامی دباؤ کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسی بوکھلاہٹ میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ قائد حزب اختلاف کا یہ جارحانہ بیان آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ اور سڑکوں پر ایک نئی سیاسی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلم اور دیگر پسماندہ طبقات جو طویل عرصے سے آئینی اداروں کی آزادی اور جمہوریت کے تحفظ کی مانگ کر رہے ہیں، ان کے لیے راہل گاندھی کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت، آئین اور شہریوں کے حقوق کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرے گی اور حکومت کے کسی بھی غیر آئینی اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

شیئر کریں۔