نئی دہلی : دہلی کی ایک عدالت نے کشمیری علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ ان کی دو قریبی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہید نسرین کو 30، 30 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ کڑ کڑ ڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے سنایا۔ اس سے قبل 14 جنوری 2026 کو تینوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔
عدالت نے ان تینوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ عدالت نے ملزمان کو یو اے پی اے کی دفعات 20 (دہشت گرد تنظیم کی رکنیت)، 38 (دہشت گرد تنظیم سے وابستگی) اور 39 (دہشت گرد تنظیم کی معاونت) کے تحت قصوروار پایا۔ اس کے علاوہ آئی پی سی کی دفعات 153A (گروہوں کے درمیان دشمنی پھیلانا)، 153B (قومی یکجہتی کے خلاف بیانات)، 120B (مجرمانہ سازش)، 505 (عوامی شر انگیزی) اور 121A (ریاست کے خلاف سازش) بھی ان پر لاگو کی گئیں۔
این آئی اے نے عدالت میں سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آسیہ اندرابی نے ملک کے خلاف جنگ چھیڑی اور ان کے خلاف مثال قائم کرنے کے لیے سخت ترین سزا ضروری ہے۔ ایجنسی کے مطابق، تینوں خواتین نہ صرف سازش کا حصہ تھیں بلکہ اس کی مرکزی کردار بھی تھیں۔ وہیں عدالت کے مطابق، یہ تینوں خواتین ایک ایسی تنظیم چلا رہی تھیں، جس کا مقصد جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرنا اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا تھا۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور اشتعال انگیز اجتماعات کے ذریعے بیرون ملک موجود دہشت گرد عناصر کی مدد سے بھارت کے خلاف مہم چلائی۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ حکومتِ ہند کے خلاف منظم مہم چلا رہی تھیں۔ این آئی اے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آسیہ اندرابی کے خلاف جموں و کشمیر میں مختلف تھانوں میں 33 مقدمات درج ہیں، جبکہ ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کے خلاف بالترتیب 5 اور 9 مقدمات موجود ہیں۔
مزید برآں، این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے روابط پاکستان میں قائم تنظیموں اور اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد حافظ سعید سے بھی تھے، جو لشکرِ طیبہ کے بانی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یہ معاملہ صرف داخلی نہیں بلکہ سرحد پار سازش کا حصہ ہے، جو بھارت کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ استغاثہ نے یہ بھی مؤقف پیش کیا کہ ملزمان کی تقاریر اور سوشل میڈیا سرگرمیوں نے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا، جس کے نتیجے میں پلوامہ، اُڑی اور لال قلعہ جیسے حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
دوسری جانب، دفاعی وکیل نے این آئی اے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم عدالت نے استغاثہ کے دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے سخت سزا سنائی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دہشت گردی اور ریاست کے خلاف سازش جیسے جرائم کا سماجی اثر انتہائی سنگین ہوتا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں سخت سزا دینا ضروری ہے تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ ملک کے خلاف کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ عدالت نے گذشتہ 14 جنوری کو انہیں قصوروار ٹھہرایا تھا، جس کے بعد اب سزا کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔
آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین فکتو (المعروف ڈاکٹر قاسم) بھی گزشتہ تین دہائیوں سے سلاخوں کے پیچھے ہیں، اور وہ بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ برسوں قبل عمر قید کی سزا بیس سال مکمل کرنے کے بعد جب ان کی رہائی سے متعلق چمیگوئیاں ہونے لگیں تو کورٹ نے کہا تھا کہ "عمر قید” اعدادی نہیں بلکہ "تا حیات” قید ہے۔ فکتو پر کشمیری پنڈت ہریدے ناتھ وانچو کے قتل کا الزام تھا جس پر کورٹ نے انہیں مجرم قرار دیکر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ فکتو 5فروری 1993سے لگاتار جیل میں ہے۔
