مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے جاری ووٹوں کی گنتی کے دوران سیاسی درجہ حرارت اس وقت مزید بڑھ گیا جب وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔ ابتدائی رجحانات سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی ترنمول کانگریس تقریباً 70 سے 100 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر الیکشن کمیشن ان نشستوں کے درست اعداد و شمار شیئر نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دانستہ طور پر بی جے پی کی سبقت کا ایک فرضی بیانیہ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی ذہن سازی کی جا سکے۔
ممتا بنرجی نے گنتی کے عمل میں تکنیکی خرابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی مقامات پر صرف دو یا تین راؤنڈز مکمل ہونے کے بعد ووٹ شماری کا عمل روک دیا گیا ہے، جو کہ شک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کلیانی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہاں کم از کم 7 مشینوں میں گڑبڑی پکڑی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مرکزی فورسز اور الیکشن کمیشن کے رویے پر سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ ٹی ایم سی کے کارکنوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور کئی مقامات پر پارٹی دفاتر پر قبضے کی کوششیں کی گئی ہیں۔
اپنے کارکنوں اور کاؤنٹنگ ایجنٹس کے حوصلے بلند کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے ہدایت جاری کی ہے کہ کوئی بھی ایجنٹ کسی بھی صورت میں ووٹ شماری کا مرکز چھوڑ کر باہر نہ آئے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایجنٹس کی عدم موجودگی میں نتائج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے۔ ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ بی جے پی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی برتری کا جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہی ہے جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
مغربی بنگال کی سیاست میں جاری اس کشمکش کے درمیان ممتا بنرجی نے مکمل اعتماد کے ساتھ کہا کہ دن کے اختتام تک تمام سازشیں ناکام ہوں گی اور ترنمول کانگریس ایک بار پھر بڑی جیت کے ساتھ ابھرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگال کے عوام نے بی جے پی کی تقسیم کار سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور حتمی نتائج ٹی ایم سی کے حق میں ہی آئیں گے۔ ریاست کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کئی حساس مراکز پر تناؤ کی صورتحال برقرار ہے اور ٹی ایم سی قیادت صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔




