’مزدور طبقہ کے معاشی استحصال کے لیے مرکزی حکومت ذمہ دار‘، کرناٹک میں ایل پی جی بحران پر کانگریس کا الزام

کرناٹک میں ایل پی جی اور ایندھن بحران کو لے کر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارمیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور کانگریس کے سینئر لیڈران نے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ منگل (7 اپریل) کو ایک مشترکہ بیان جاری کر انہوں نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ریاست میں سنگین ایل پی جی اور ایندھن کا بحران پیدا ہو گیا ہے، جس سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی پر اثر پڑا ہے۔‘‘

کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے 5 لاکھ سے زائد آٹو چلاننے والوں پر براہ راست اس کا اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 میں آٹو گیس کی قیمت 58 سے 61 روپے فی لیٹر تھی جو اب کچھ ہی ہفتوں میں بڑھ کر 105 سے 120 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یعنی تقریباً 106 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پرائیویٹ پٹرول پمپوں پر یہ قیمت 125 سے 135 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔

بنگلورو کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ پہلے جہاں 70-60 ایل پی جی اور سی این جی اسٹیشن چالو تھے، اب ان کی تعداد کم ہو کر صرف 15-10 رہ گئی ہے یعنی تقریباً 80 فیصد اسٹیشن بند ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یومیہ سپلائی بھی 12000 لیٹر سے گھٹ کر 6000 لیٹر رہ گئی ہے۔ کئی مقامات پر فی گاڑی صرف 400 روپے تک کا ایندھن دینے کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ آٹو چلانے والے صبح سے لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے کو مجبور ہیں اور کئی بار انہیں بغیر ایندھن لیے لوٹنا پڑتا ہے۔

کانگریس لیڈران نے اس صورتحال کو صرف مہنگائی نہیں، بلکہ ’مزدور طبقہ کا معاشی استحصال‘ قرار دیا۔ انہوں نے مرکز کی اس تجویز پر بھی تنقید کی جس میں پٹرول پر واپس جانے کی بات کہی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرول پہلے سے مہنگا ہے اور کئی گاڑیاں پہلے ہی گیس پر شفٹ ہو چکی ہیں، ایسے میں یہ تجویز ناقابل عمل ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ کا معاملہ اٹھایا گیا۔ یکم اپریل کو قیمت میں 200 روپے کے اضافے کے بعد سلنڈر کی قیمت 2000 روپے سے تجاوز کر گئی ہے اور فی الحال یہ تقریباً 2161 روپے ہے۔ الزام ہے کہ بلیک مارکیٹ میں یہی سلنڈر 6000 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے ہوٹل، ڈھابے، ٹھیلے اور فوڈ ڈیلیوری سے منسلک افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ ملک میں ایل پی جی سپلائی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعہ ہوتی ہے، اس لیے اس کی مکمل ذمہ داری مرکزی حکومت کی ہے۔ کانگریس لیڈران نے انتظامی ناکامی اور بروقت کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی ایل پی جی کی کالابازاری کے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا۔

کانگریس لیڈران نے کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کے مرکزی وزراء کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ انہیں یا تو ذمہ داری لینی چاہیے یا استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس صورتحال کو ’روزگار بحران‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کا اثر داونگیرے ساؤتھ اور باگل کوٹ کے ضمنی انتخاب کے ساتھ ساتھ آنے والے دیگر انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔