مدھیہ پردیش کے بیتول ضلع کے ڈھابہ گاؤں میں محض ایک افواہ کو بنیاد بناکر ضلع انتظامیہ نے ایک زیر تعمیر اسکول منہدم کردیا۔ گاؤں والوں نے الزام لگایا کہ کسی نے افواہ پھیلائی اور جھوٹی شکایت درج کرائی اور انتظامیہ نے بغیر ٹھوس جانچ کےبلڈوزر چلادیا۔ اس کارروائی سے گاؤں میں کشیدگی اور غم و غصہ پھیل گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ ضلع کے بھینس دیہی بلاک کے تحت آنے والے ڈھابا گاؤں کا ہے۔ یہاں کے رہائشی عبدالنعیم نے اپنے خرچ سے تقریباً۲۰؍ لاکھ روپے خرچ کر کے ایک چھوٹا اسکول تعمیر کروایا۔ گاؤں کی آبادی لگ بھگ دو ہزار ہے، جن میں صرف ۳؍ مسلم خاندان رہتے ہیں۔ نعیم کا کہنا ہے کہ میں تو نرسری سے آٹھویں جماعت تک کا اسکول کھولنا چاہتا ہوں۔‘‘ لائیوہندوستان کی رپورٹ کےمطابق ۳؍ دن قبل گاؤں میں یہ افواہ پھیلی کہ یہاں ایک ’’غیر قانونی مدرسہ‘‘ چلایا جا رہا ہے، حالانکہ عمارت کی تعمیر بھی مکمل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی کلاسیز شروع کی گئی تھیں۔۱۱؍ جنوری کو گرام پنچایت نے بغیر اجازت تعمیرات کا حوالہ دیتے ہوئے نعیم کو عمارت گرانے کا نوٹس جاری کر دیا۔ نعیم کا کہنا ہے کہ جب وہ پنچایت دفتر پہنچے تو ان کی درخواست لینے سے انکار کر دیا گیا اور بعد میں آنے کو کہا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ۳۰؍ دسمبر کو ہی اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں نرسری سے آٹھویں جماعت تک اسکول کھولنے کیلئے درخواست دے دی گئی تھی اور زمین سے متعلق تمام دستاویزات جمع کرا دئیے تھے۔گاؤں میںجب اسکول کی حفاظت کیلئے آوازیں اٹھنے لگیں تو پنچایت نے۱۲؍ جنوری کو عجلت میں ’این او سی‘ جاری کر دیا۔ سرپنچ نے بعد میں یہ بھی تسلیم کیا کہ گاؤں میں کسی مدرسے کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں تھی اور اجازت دی جا چکی تھی۔ اس کے باوجود۱۳؍ جنوری کو، جب عبدالنعیم اور گاؤں والے کلکٹر سے ملنے ضلع ہیڈکوارٹر گئے ،تو انتظامیہ کی ٹیم جے سی بی لے کر گاؤں پہنچی اور اسکول کی عمارت کا ایک حصہ اور سامنے بنایا گیا شیڈ منہدم کر دیا۔
اسی گاؤں کے رہنے والے سونو پانسے جو آدیواسی یُوا شکتی نامی تنظیم سے منسلک ہیں اور عبدالنعیم کے ساتھ احتجاج میں پیش پیش ہیں نے کہا کہ ’’گاؤں میں کسی طرح کی مذہبی سرگرمی نہیں ہورہی تھی۔ بچوںکی پڑھائی کیلئے گاؤں والوں کی مرضی و مشورے سے اسکول بنوایا جارہا تھا۔کچھ لوگوں نے افواہ پھیلاکر انتظامیہ کو گمراہ کیا۔‘‘
یہ کارروائی بھینس دیہی کے ایس ڈی ایم اجیت مراوی کی موجودگی میں انجام دی گئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تعمیر غیر قانونی اور تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے۔صحافی کاشف کاکوی نے اس معاملے کے متعلق ایکس پر تفصیلی پوسٹ لکھی ، انہوں نے بھی انہدامی کارروائی کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ ’’جب این او سی ملنے کے باوجود پیر کو بھی عمارت توڑنے کا حکم واپس نہیں لیا گیا تو گاؤں والوں نے۸۰؍ کلو میٹر دور کلکٹر کے ’جن سنوائی ‘‘ میں ملنے کا منصوبہ بنایا۔منگل کو جیسے ہی سیکڑوں دیہاتی نعیم کے ساتھ بیتول کلکٹر آفس کیلئے نکلے تو راستے میں پولیس نے انہیں روک لیا۔ کئی گھنٹوں بعد جب انہیں چھوڑا گیا اور وہ جن سنوائی میں پہنچے اور اپنی بات رکھی، تو کلکٹر صاحب نے جانچ کی بات کہی۔ حالانکہ اسی دوران ایس ڈی ایم مبینہ طور پر عمارت گرا رہے تھے۔ ’’سرو شکشا ابھیان کو آپ کو مبارک ہو!‘‘کاشف کے مطابق ایس ڈی ایم نے نعیم کو بتایا کہ ’’اوپر سے بہت پریشر ہے اسکول توڑنا پڑے گا۔‘‘ اس انہدامی کارروا ئی کے متعلق بیتول ضلع کلکٹر نریندر سوریہ ونشی نے کہا کہ’’ ہمیں شکایت موصول ہوئی تھی، ناجائز تعمیرات کے معاملے میں کسی طرح کی راحت نہیں دی جاسکتی اور قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے۔‘‘
