لبنان میں قیامت خیز تباہی، 10 منٹ میں اسرائیل کے 100 حملے، ایران کا سخت انتباہ


مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے جاری جنگ بندی معاہدے سے ممکنہ دستبرداری کا اشارہ دیا ہے۔ تازہ حملوں نے نہ صرف لبنان میں انسانی بحران کو جنم دیا بلکہ پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق دارالحکومت بیروت سمیت مختلف علاقوں پر ہونے والے شدید فضائی حملوں میں کم از کم 89 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ حملوں کے بعد کئی رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ شہری خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیے گئے، جس سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ اسرائیلی فوج نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس نے محض 10 منٹ کے اندر 100 سے زائد فضائی حملے کیے، جو حالیہ عرصے کے سب سے شدید حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

لبنان کے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور طبی عملے کو فوری طور پر طلب کیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور مزید امداد کی فوری ضرورت ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب جنگ بندی کے حوالے سے شدید ابہام پایا جا رہا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے واضح طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیزفائر لبنان پر لاگو نہیں ہوتا۔ ان متضاد بیانات نے نہ صرف سفارتی سطح پر الجھن پیدا کی بلکہ زمینی صورتحال کو بھی مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

ایران نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ مکمل الرٹ ہیں اور صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حکومت جنگ بندی معاہدے سے دستبرداری پر غور کر رہی ہے جبکہ اسرائیل کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی بھی زیرِ بحث ہے۔ مزید برآں صوبہ فارس میں ایک اسرائیلی ڈرون مار گرائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اس کشیدہ صورتحال کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں اور آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جو عالمی تیل کی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں جاری رہی ہے، تاہم حالیہ واقعات نے اسے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ سفارتی کوششیں اب تک اس آگ کو بجھانے میں ناکام نظر آ رہی ہیں اور خطہ ایک وسیع جنگ کے قریب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔