شنکراچاریہ سوامی اوی مکتیشورانند سرسوتی کے خلاف جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے مذہبی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یکم اپریل 2026 کو دوپہر کے وقت ان کے سرکاری موبائل نمبر پر نامعلوم شخص کی جانب سے دھمکی آمیز ٹیکسٹ پیغامات بھیجے گئے، جن میں انہیں بدنام گینگسٹر عتیق احمد کی طرح قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر نمبر کو بلاک کر دیا گیا تھا، تاہم ملزم نے 6 اپریل کو دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ اس بار اس نے دو الگ الگ صوتی پیغامات بھیجے، پہلا دوپہر 1 بج کر 55 منٹ پر اور دوسرا 1 بج کر 57 منٹ پر۔ ان آڈیو پیغامات میں بھی سنگین نوعیت کی دھمکیاں دی گئیں، جس کے بعد معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔
سوامی پرتیاکچیتانیاموکندانند گری نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جلد ہی شنکراچاریہ کے وکیل کے ذریعے قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سیکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور پورے معاملے کی جانچ کی تیاریاں جاری ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شنکراچاریہ پہلے ہی ایک بڑے تنازعے میں گھرے ہوئے ہیں۔ پریاگ راج میں منعقدہ ماگھ میلے کے دوران ان کا انتظامیہ کے ساتھ تصادم ہوا تھا، جس کے بعد جگد گرو رام بھدراچاریہ کے شاگرد آشوتوش مہاراج نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت میں ماگھ میلے اور مہاکمبھ کے دوران بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی استحصال کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
کارروائی میں تاخیر کے خلاف 8 فروری کو خصوصی پوکسو عدالت سے رجوع کیا گیا، جس کے بعد معاملہ قانونی شکل اختیار کر گیا۔ دو متاثرہ بچوں کو 13 فروری کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ 21 فروری کو ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ عدالت کے حکم پر اسی روز جھونسی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں شنکراچاریہ، ان کے شاگرد مکندنند اور کچھ نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا۔
بعد ازاں اس کیس کی سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے شنکراچاریہ کو پیشگی ضمانت دے دی اور یہ ہدایت دی کہ جب تک چارج شیٹ داخل نہیں ہوتی، انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔ اس پیش رفت کے باوجود اب تازہ دھمکیوں نے اس پورے معاملے کو مزید حساس اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
