مولانا محمد عطاء الرحمن القاسمی،کڈیکل
بڑے عجیب و غریب اور انوکھے انداز میں ماہ ِ رمضان المبارک روزہ داروں کی بے پرواہی،بے اعتنائی،بے راہ روی اورغیر ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے فریاد کر رہا ہے کہ میں گیار ہ مہینوں کے بعد رحمتوں،برکتوں،عظمتوں اور بخششوں کی بارش بنکر برستا ہوں مگر اس سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے اے روزہ دارو تم بھوکے اور پیاسے رہ کر بھی سارا سارا دن سوئے رہو یا فون سے چپک کر بیٹھے رہو،میں اس لئے نہیں آیا ہوں کہ تم لوگ اپنے رب کی نا فرمانیاں کرتے رہواور عبادتوں میں دکھاوا و ریاکاری کرو میں تم کو صرف بھوکا پیاسا رکھوں اس لئے نہیں آیا ،افطار پارٹی کے بہانے نا م و نمود اورفضول خرچیاں کرو اور عیدی خریدی کے نام پر پورا مہینہ بازار میں لگادو ۔میں اس لئے نہیں آیا ہوں کہ تم لوگ زکوٰۃ فطرے کے نام پر نام و نمود بٹورو،میں اس لئے نہیں آیا ہوں کہ افطاری میں خوب پیٹ بھر کے کھائو اور عشاء و تراویح کی نمازیں قضا کر کے خوب خرّاٹے مارومیں صرف اورصرف اپنے رب کی عظمتوں ،رحمتوں ،برکتوں،لذّتوں اور بخششوں کی سوغات لیکر آیا ہوں مگر تم اس سے فائدہ حاصل کرنے کے بجائے تجارت کے حساب و کتاب میں لگ جاتے ہو،روزہ رکھ کر یوں سمجھتے ہوکہ ہم نے بہت بڑا تیر مارلیا،ارے بھائیو میں تو اپنے رب سے تمہارے سال بھر کے گناہوں کو دھونے اور بخشوانے کے لئے آیا ہوں،اللہ کی طرف سے رحمت کا پروانہ بن کر آیا ہوں ،مگر تم روزہ رکھ کر بھی گناہوں سے باز نہیں آتے ،اے نوجوانو !تم سال بھر عشق بازی میں لگے رہتے ہو اور پھر روزہ رکھتے ہوئے بھی رمضان میں سارا سارا دن موبائیل سے عشق بازی میں لگے رہتے ہو،روزہ رکھ کر رمضان میں یہ گناہ کیسا؟العیاذ باللہ ۔رمضان میں کام نہ ہونے کا بہانہ بناکر سارا سارادن عشق بازی کرتے رہ جاتے ہو ،رمضان سے پہلے بھی یہ گناہ اور عین رمضان میں بھی ؟میں تو اس لئے نہیں آیا ہوں ۔ اے خواتین تم تو ساری مارکیٹ کی زینت بنی گھومتی رہو اور افسوس کہ برقعہ پوشی کی حالت میں بھی کھاتی پیتی اور شاپننگ کرتی ہوئی نظر آتی ہو،کیا میں اسی لئے آیا ہو ں کہ خدا کی عبادت اس ماہ ِ مبارک میں کرنے کی بجائے فضول بازاروں میں بے پردہ گھومتی رہو،میری عظمت کے پرخچے اُڑاتی ہوئی میری توہین کی مرتکب اور اپنے رب کو ناراض کر رہی ہو،میں تو تیس دن کے بعد رخصت ہو جائوں گا بعد میں پچھتاوا بیکار ہے،لہٰذا اس میرے وجود کو غنیمت جان کر اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرو اور اپنی نا جائز حرکتوں سے توبہ کرو۔
میں محض الرحمٰن کی رحمت بن کر، الغفار کی مغفرت بن کر، العظیم کی عظمت بن کر، البصیر کی بصارت بن کر،الطیف کی لطافت بن کر،المعزّ کی عزت بن کر،الشہید کی شہادت بن کر،القویّ کی قوت بن کر،الحکیم کی حکمت بن کر،المجیب کی اجابت بن کر،الحفیظ کی حفاظت بن کر،الجلیل کی جلالت بن کر، الوکیلکی وکالت بن کر،الودود کی مودّت بن کر،الاحد کی وحدانیت بن کر،الکریم کی کرامت بن کر،القادر کی قدرت بن کر،الواسع کی وسعت بن کر،الجامع کی جامعیت بن کر،الہادی کی ہدایت بن کر،الغنیّ کی دولت بن کر،النور کی نورانیت بن کر،السلام کی سلامت بن کر،المالک کی بادشاہت بن کر،الاکرم کی کرامت بن کر،العلیم کا علم بن کر،الرزاق کا رزق بن کر،الخبیر کی خبریں لیکر،الخافض کی پردہ پوشی لیکر،الحلیم کا تحمل بن کر،المجید کی بزرگی بن کر،الحَکم کا فیصلہ بن کر،الصمد کی بے نیازی بن کر،الحسیب کا حساب بن کر،العفّو کی معافی بن کر،المنتقم کا انتقام لیکر ،النافع کا نفع بن کر،التوّاب کی توبہ بن کر،الحق کی حق بات بن کر،الّرووف کی مہربانی بن کر،الصبور کا صبر بن کر،الشکور کا شکریہ بن کر آیا ہوں۔
مگر اے روزہ دارو۔تم رتیّ برابر میری میزبانی نہیں کرتے اور جو لوگ میری میزبانی کرتے ہیں میں اُن پر قربان جائوں اور اپنا پُر مسرّت مژدہ اُن کو سنائوں،میرا ایک دن جیسے ہی گزرتا ہے میرے قدر دان مایوس ہوجاتے ہیں اور کف ِ افسوس ملتے رہ جاتے ہیں کہ میرا ایک دن گھٹ گیا،راتوں کو تسبیح و تہلیل اور قرآن کی تلاوت سے، دن کے صیام اور راتوں کے قیام سے،اپنی دعائوں و التجائوں سے اپنے رب کو مناتے رہتے ہیں ہر پَل اپنے خالق سے گناہوں کی شکایت کرتے ہیں رحمتیں لوٹتے ہیں ،برکتیں حاصل کرتے ہیں ،مغفرت کے پر وانے اپنے نام کرلیتے ہیں میں آتا بھی اسی لئے ہوں تم بھول مت جانا جب میں تمہارے آنگن میں قدم رکھوں گا تو ہر لمحہ دوسرے ہزاروں لمحوں سے بہتر ہے،یہ ایسا مہینہ ہے جس میں ہر وقت اللہ کی بے پناہ رحمت برستی ہے ،میں تمہیں کبھی روزہ بن کر آواز دیتا ہوں تو کبھی افطاری کی دعاء بن کر ،کبھی سحری سے تھوڑی دیر پہلے اُٹھکر اپنے رب سے التجا کرتے ہوے اُسے منانے کی درخواست کرتا ہوں ،کبھی رحمت کے دس دن دیتا ہوں تو کبھی مغفرت کے دس دن اور کبھی نجات کے دس دن تمہارے حوالے کرتا ہوں مگر تم مانتے نہیں۔ارے بھائی ہوش میں آئو میں آگیا ہوں گیارہ ماہ گناہوں کے دلدل میں ڈوبے رہنے کے بعد گناہوں کو بخشوانے کے لئے میرے رب نے تم تک مجھے بھیجا ہے ۔مگر تم خالی پیٹ روزے سے رہ کر وہی جھوٹ کے انبار ،غیبت کے بازار ،بات بات پر تکرار اور عید خرید کے نام بیوی سے اَن بن اور پڑوسی سے لا تعلقی و بے رُخی ۔ارے ہوش میں آئو اگر میں چلا گیا تو موقعہ ہاتھ سے چلا جائیگا۔دوبارہ لوٹنے کے لئے گیارہ مہینے لگ جائیں گے اور زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں پتہ نہیں اگلے رمضان تک زندگی وفا ء کرے نہ کرے اور تمہاری سانس چلے کہ نہ چلے دنیا کے پیچھے پاگل مت بنو تیاری کرو میری میزبانی کی میری مہمانی کی دل سے کرو خلوص و لللٰہیت سے کرو ،دکھلاوا میرے رب کو ہر گز پسند نہیں،تنہائیوں میں اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرو جو بھی کرو اپنے رب سے التجا اورلَو لگاتے ہوے کرو،ابھی سے مانگنا شروع کروچونکہ نیک ا عمال کا کرنا بھی اللہ کی توفیق ہی سے ہے ۔
میری میز بانی کا مطلب یہ نہیں کہ گھر میں کھجور و راشن اور افطاری و سحری کا سامان جمع کر لو ۔میری میزبانی کا مطلب یہ ہے کہ نماز ،روزہ،تروایح اور قرآن پاک کی تلاوت ذکر و اذکار،گناہوں سے اجتناب،جھوٹ ،غیبت،فحّاشی،عیّاشی اور ناجائز عشق بازی اور بازاروں کی زینت بننے سے خود بھی بچنا اور گھر کی خواتین کو بھی اس سے باز رکھنا ،میری میز بانی ایسی کرنا کہ ربّ غفور الرّحیم تم سے راضی ہوجائے اور جب ربّ ہی راضی ہوگیا تو پھر تمہیں دنیا سے کیا مطلب؟دنیا جو ایک دھوکے کا گھر ہے جی ہاں ایک دھوکے کا گھر ،ہاں میری راتوں کو خواب ِ غفلت میں برباد نہ کرو ،اللہ سے اپنا دُکھڑا سنانا ،برما ؔمیں کیا ہوا،فلسطینؔ میں کیا ہوا اور ہو رہا ہے،افغانستانؔ و عراقؔو شامؔ اور دیگر مسلم ممالک میں جو ظلم و جور اور ننگا ناچ رچایا جارہا ہے ،اپنوں نے اورغیروں نے ہمارے ساتھ جو نا زیبا سلوک کیا ہے اُس کا دُکھڑا اپنے ربّ سے سنانا ،بیتے ہوے سالوں میں جو کچھ نا زیبا سلوک ہوا اُن سب کی شکایت اپنے ربّ سے کرنا و ہ سننے والا ہے و ہ جو سب سے زیادہ رحیم اور سب سے زیادہ کریم ہے،جس کی رحمت و مہربانی کی کوئی انتہا نہیں و ہ ضرور ہمیں بخش دیگا اور معاف فرمائے گااور مغفرت کا پروانہ ہمارے ہاتھ تھمادے گا،مگر شرط یہ کہ میری (رمضان المبارک کی) حقیقت کو خوب سمجھ کر میرے تقاضوں کو پورا کرو۔اپنے ربّ کی ہی غلامی وبندگی میں کامیابی و کامرانی مضمر ہے اور ایسی غلامی کہ جس میں اپنے ربّ پر مکمل یقین ہو،اسی کا ذوق یہ عبادتیں اور ریاضتیں پیدا کرتی ہیں ۔بس بندگی اور ربّ کی غلامی کا ذوق پیدا ہوجائے خدا کی ذات ِ واحد پر غلامی کے ساتھ ساتھ یقین ِ کامل بھی پیدا ہو جائے یہی میرا (رمضان کا ) مقصد ہے، پکّا یقین پیدا ہوجانے کے بعد دنیا کی ساری تدبیریں اور اسباب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں بقول علامہ اقبال ؔ
؎ غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق ِ یقیں پیدا توکٹ جاتی ہیں زنجیریں
