بھارت کی بحری مشق میں شریک ایرانی جہاز واپسی کے دوران امریکی حملہ میں تباہ، 87 اہلکار ہلاک

سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب امریکی آبدوز کے حملے میں ایران کا موُج کلاس جنگی جہاز IRIS Dena تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 87 اہلکار ہلاک جبکہ 32 کو زندہ بچا لیا گیا ہے، اور درجنوں اہلکار اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس کارروائی کو “بین الاقوامی پانیوں میں ٹارپیڈو کے ذریعے دی گئی خاموش موت” قرار دیا۔ یہ واقعہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena اس حملے سے صرف دو ہفتے قبل بھارت میں موجود تھا۔ یہ جہاز وشاکھاپٹنم میں منعقدہ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026 اور ملٹی نیشنل بحری مشق MILAN 2026 میں شریک ہوا تھا۔
بھارتی بحریہ کی ایسٹرن نیول کمانڈ نے اس جہاز کا باضابطہ استقبال کیا تھا جبکہ صدر دروپدی مرمو نے فلیٹ ریویو کے دوران اس جہاز کا معائنہ بھی کیا تھا۔

اس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک ایسا جنگی جہاز جو چند دن پہلے بھارت کی میزبانی میں ہونے والی بحری مشقوں میں شریک تھا، اسے بھارت کے سمندری دائرہ اثر کے قریب نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو پھر بحرِ ہند میں اصل اختیار کس کے پاس ہے؟

سماجی و سیاسی کارکن چندر کمار بوس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں خود کو محفوظ سمجھنے والے ایرانی جہاز کو امریکی آبدوز کا نشانہ بنانا شرمناک ہے۔

ادھر ایران نے اس حملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اس کارروائی پر “تلخ انجام” کا سامنا کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ جہاز حال ہی میں بھارتی بحریہ کا مہمان تھا اور اس پر حملہ خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک پیش رفت ہے۔

سری لنکا کے حکام کے مطابق جہاز نے صبح کے وقت ہنگامی سگنل (ڈسٹرس کال) بھیجا تھا، جس کے بعد گالے کے جنوب میں سمندر سے ملبہ، لاشیں اور زندہ بچ جانے والے افراد برآمد کیے گئے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بھارت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث خطے میں سیاسی اور تزویراتی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔