انکت شرما قتل کیس: ۶ ملزمین کی برائیت کے خلاف دہلی پولیس کا ہائی کورٹ رجوع کرنے کا فیصلہ

دہلی پولیس نے ۲۰۲۰ کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کیس میں عدالت کی جانب سے بری کیے گئے ۶ ملزمین کی رہائی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ استغاثہ بری ہونے والے تمام ملزمین کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے قانونی دستاویزات کی تیاری میں مصروف ہے۔

یہ پیش رفت جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے اس وقت سامنے آئی جب عدالت اس کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرم قرار دیے گئے اور عمر قید کی سزا پانے والے دو افراد، ناظم اور قاسم کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں پر سماعت کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس کے خصوصی وکیل رجت نائر نے عدالت کو مطلع کیا کہ ریاست ان ۶ افراد کی برائیت کے خلاف علیحدہ سے اپیل دائر کرے گی۔ ہائی کورٹ نے ناظم اور قاسم کی اپیلوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جبکہ ان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر ۲ دسمبر کو غور کیا جائے گا۔

ٹرائل کورٹ نے اس معاملے میں سابق کونسلر طاہر حسین کے ساتھ ساتھ ناظم، قاسم، جاوید اور انس کو انکت شرما کے قتل، فساد برپا کرنے، اور مختلف طبقات کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے جیسے سنگین جرائم کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ دوسری طرف، عدالت نے طاہر حسین کے ساتھ نامزد ۶ دیگر افراد سمیر خان، فیروز، گلفام، شعیب عالم اور منتظم کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا تھا، جسے اب پولیس ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے جا رہی ہے۔

ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران مجرم قرار دیے گئے افراد کے وکلاء نے پولیس تفتیش اور ثبوتوں کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے۔ دفاعی وکلاء نے دلیل دی کہ کارروائی کے دوران ملزمین کی شناخت کے لیے کوئی ‘ٹیسٹ آئیڈینٹی فکیشن پریڈ’ (شناخت پریڈ) منعقد نہیں کی گئی تھی اور استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی گواہیوں کو کسی بھی آزاد شواہد یا سائنسی ڈیٹا کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض شک و شبہات اور ناقص تفتیش کی بنیاد پر سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ دیال پور پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر ۶۵/ ۲۰۲۰ کے تحت درج کیا گیا تھا، جو انکت شرما کے والد رویندر کمار کی شکایت پر قائم ہوا تھا۔ ۲۵ فروری ۲۰۲۰ کو گھر سے سامان لینے کے لیے نکلنے والے انکت شرما لاپتہ ہو گئے تھے، جن کی مسخ شدہ لاش اگلے روز چاند باغ کے قریب ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق شرما کے جسم پر ۵۱ کے قریب زخم پائے گئے تھے۔ ۲۰۲۰ کے شمال مشرقی دہلی تشدد کے دوران ۵۳ افراد کی جانیں گئی تھیں، اور اس کیس میں عدالتی کارروائی اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

شیئر کریں۔