امریکہ اور ایران کا ۴۵؍ روزہ جنگ بندی پر غور، پاکستان کے ذریعے پیش رفت

(۱) امریکہ اور ایران کے درمیان ۴۵؍ روزہ جنگ بندی پر غور، پاکستان کے ذریعے پیش رفت ممکن
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ۴۵؍ روزہ جنگ بندی کی تجویز زیر غور ہے، جس کیلئے پاکستان کے ذریعے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کو ایک ایسا منصوبہ موصول ہوا ہے جس میں دشمنی ختم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’جنگ بندی پر اتفاق کیلئے دونوں فریقین کو ایک مشترکہ فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔‘‘ اس منصوبے میں ممکنہ طور پر عارضی جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور سفارتی رابطوں کی بحالی شامل ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم باضابطہ طور پر کسی معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے اس منصوبے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی رابطوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی دھمکیاں، زمینی فوج کی تعیناتی زیر غور

(۲) کشیدگی برقرار، جاپان کی ایران کے ساتھ بات چیت کی تیاری
جاپان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران کے ساتھ بات چیت کے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ جاپانی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سفارتی حل تلاش کرنا اور کشیدگی کم کرنا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ’’جاپان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق جاپان نے ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کیلئے سفارتی چینلز کو فعال کیا ہے، جبکہ خطے میں استحکام کیلئے کردار ادا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

(۳) روس کا بیان: امریکہ کو الٹی میٹم کی زبان ترک کرنی چاہئے
روس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران الٹی میٹم کی زبان استعمال نہ کرے۔ روسی حکام کے مطابق ایسے بیانات صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ’’ہم سمجھتے ہیں کہ دباؤ اور دھمکیوں کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔‘‘ روس نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کرے اور بات چیت کو ترجیح دی جائے۔