اقوام متحدہ نے عمر خالد کی قید کو حکومت کی ’من مانی‘ قراردیتے ہوئے رہائی کا کیا مطالبہ

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ورکنگ گروپ آن آربیٹری ڈیٹینشن نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کی حراست ’’من مانی‘‘ ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق خالد کی آزادی سے محرومی ان کے بنیادی حقوق، خصوصاً اظہارِ رائے، اجتماع اور عوامی معاملات میں شرکت کے حق کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ واضح رہے کہ عمر خالد کو ۲۰۲۰ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ متنازع سی اے اے کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئے تھے۔ یہ قانون مسلمانوں کو شہریت کے تیز رفتار راستے سے خارج کرنے پر تنقید کا مرکز رہا ہے۔ گرفتاری کے بعد سے خالد مسلسل جیل میں ہیں اور ان کی ضمانت کی درخواستیں بارہا مسترد ہو چکی ہیں، جبکہ پانچ سال گزرنے کے باوجود مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہو سکی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی سیاسی اور سماجی سرگرمیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت مکمل تحفظ رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف خالد کو فوری رہا کیا جائے بلکہ انہیں مناسب معاوضہ بھی دیا جائے۔ اس معاملے میں ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے مارچ ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خالد کی حراست قانونی بنیاد سے محروم، امتیازی اور ان کے پرامن حقوق کے استعمال کی سزا ہے۔ درخواست میں منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزیوں، مبہم قوانین کے استعمال اور طویل قبل از مقدمہ حراست جیسے نکات بھی اٹھائے گئے۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اپنے طریقہ کار کے تحت ہندوستانی حکومت سے وضاحت طلب کی، تاہم رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کی نمائندہ ہانا وان ڈجکے نے کہا، ’’یہ رائے واضح کرتی ہے کہ عمر خالد کی حراست کے لیے کبھی کوئی مضبوط قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل الزامات کے باوجود یہ کیس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی مثال ہے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان میں شہری آزادیوں، احتجاج کے حق اور طویل عدالتی عمل جیسے مسائل پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے، اور اس فیصلے سے اس بحث کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔