ضمنی انتخابات کانگریس کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے: آر اشوکا


بنگلورو: کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آر اشوکا نے کہا ہے کہ داونگیرے جنوبی اور باگل کوٹ اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات ریاست میں حکمراں کانگریس کے سیاسی مستقبل کا رخ متعین کریں گے۔

یہ ضمنی انتخابات کانگریس کے موجودہ اراکین اسمبلی شمانور شیواشنکرپا اور ایچ وائی میٹی کے انتقال کے بعد ضروری ہو گئے تھے، جو بالترتیب داونگیرے ساؤتھ اور باگل کوٹ حلقوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔

حکمراں کانگریس نے داونگیرے ساؤتھ میں شمانور شیواشنکرپا کے پوتے اور ریاستی وزیر ایس ایس ملیکارجن کے بیٹے سمرتھ شمانور کو میدان میں اتارا ہے جبکہ باگل کوٹ سے امیش میٹی کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ ان کا مقابلہ بی جے پی کے امیدواروں ٹی داسکریپا اور ویربھدرایا چرنتی مٹھ سے ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آر اشوکا نے کہا کہ 9 اپریل کو ہونے والے یہ انتخابات دراصل “امیر اور غریب” کے درمیان مقابلہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کو ان حلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہی نتائج ریاست کی آئندہ سیاست کا رخ طے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے عام طبقے سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے جبکہ کانگریس نے بااثر اور خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق باگل کوٹ میں بی جے پی امیدوار کو عوام میں بہتر پذیرائی حاصل ہے۔

آر اشوکا نے کانگریس پر خاندانی سیاست کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے دونوں حلقوں میں بی جے پی کی جیت کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر داونگیرے میں کانگریس کامیاب ہوتی ہے تو اس کے اثرات دیگر طبقات، خصوصاً اقلیتوں کی نمائندگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ سدارامیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ پسماندہ طبقات کی نمائندگی کی بات تو کرتے ہیں، لیکن ٹکٹ کی تقسیم میں انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔