مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر کا سلسلہ برقرار، داسنا مندر پنچایت کی ویڈیووائرل

اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں واقع داسنا دیوی مندر میں منعقدہ ایک ہندو پنچایت کے دوران متنازع ہندوتوا مذہبی لیڈر یتی نرسنگھانند سرسوتی کی جانب سے ایک بار پھر انتہائی اشتعال انگیز اور مسلم مخالف بیانات کی سرپرستی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے مطابق نرسنگھانند نے دائیں بازو کے ایک اور انتہا پسند شخص انیل یادو کے اس ہولناک بیان کی کھل کر حمایت کی ہے جس میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور غزہ جیسی صورتحال پیدا کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس وائرل ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر کے سماجی، سیاسی اور مسلم حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے مطالبات نے ایک مرتبہ پھر زور پکڑ لیا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق داسنا دیوی مندر کی اس حالیہ پنچایت میں نرسنگھانند نے عوامی سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تناظر بالخصوص غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔ اس نے ان کارروائیوں کو ہندوستان میں مسلم اقلیت کے خلاف ہندوتوا کے موقف کے متبادل کے طور پر پیش کیا۔ اپنی تقریر کے دوران نرسنگھانند نے انیل یادو کے ان سابقہ بیانات کا دفاع کیا جن میں یادو نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہیے جو غزہ میں ہو رہا ہے۔ نرسنگھانند نے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انیل یادو نے کوئی غلط بات نہیں کہی اور اگر انتظامیہ یا پولیس یادو کے خلاف کوئی تادیبی یا قانونی کارروائی کرنا چاہتی ہے تو اس کا آغاز خود نرسنگھانند سے کیا جائے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب یتی نرسنگھانند سرسوتی نے اس طرح کا پبلک اسٹینڈ لیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ اسلام مخالف بیانات، مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیز ریمارکس اور ہریدوار دھرم سنسد کیس سمیت متعدد مقدمات میں نامزد ہو چکا ہے اور جیل بھی جا چکا ہے۔ داسنا دیوی مندر کا پورا احاطہ بھی ماضی میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی اور وہاں سے جاری ہونے والے منافرت پر مبنی بیانات کی وجہ سے مسلسل سرخیوں میں رہا ہے۔ انیل یادو کے حالیہ پرتشدد بیانات پر پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں ایف آئی آر درج کرنے اور اسے گرفتار کرنے کے مطالبات کیے جا رہے تھے، لیکن اب نرسنگھانند کی طرف سے اس بیانیے کو مزید ہوا دینے سے ماحول کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ متعدد صارفین نے ٹویٹر (ایکس) اور دیگر پلیٹ فارمز پر غازی آباد پولیس اور اتر پردیش حکومت کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ کسی بھی مذہبی برادری کے خلاف سرعام نسل کشی کی وکالت کرنا یا ایسے بیانات کی تائید کرنا ملک کے آئین اور امن عامہ کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے والی اس طرح کی زبان کا عدالتی اور قانونی جائزہ لیا جانا انتہائی ضروری ہے تاکہ قانون کے یکساں نفاذ کا تاثر برقرار رہے۔

انصاف پسند تنظیموں اور انسانی حقوق کے محافظوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انیل یادو کے اشتعال انگیز بیانات کے ساتھ ساتھ یتی نرسنگھانند کی اس تازہ تقریر کا بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں تاخیر سے شرپسند عناصر کے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں، جس سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے۔ اگرچہ اس وائرل ویڈیو کے وسیع پیمانے پر گردش کرنے کے بعد بھی متعلقہ ضلع انتظامیہ یا غازی آباد پولیس کی جانب سے تاحال کسی نئی باضابطہ کارروائی یا گرفتاری کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، تاہم عوامی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

شیئر کریں۔