مغربی بنگال: کانگریس امیدوار کا نام ووٹر لسٹ میں بحال، الیکشن کمیشن پر سوالات


مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل ایک اہم پیش رفت میں کولکاتا میں قائم اپیلیٹ ٹریبونل نے فرکا سے کانگریس امیدوار مہتاب شیخ کا نام ووٹر لسٹ میں بحال کر دیا ہے۔ یہ اس ٹریبونل کا پہلا فیصلہ ہے، جس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ریاست میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔

ٹریبونل کے سربراہ اور ٹی ایس سیواگنانم نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے شیخ کا نام حذف کیے جانے کی وجوہات واضح کرنے کے بجائے صرف “تکنیکی اسباب” کا حوالہ دیا، جو ناکافی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ شیخ کو مرشد آباد کا درست ووٹر قرار دیتے ہوئے ان کا نام اضافی فہرست میں شامل کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق شیخ نے اپنی شناخت کے ثبوت کے طور پر پاسپورٹ پیش کیا، جسے عدالت نے کافی قرار دیا۔ ٹریبونل نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان کے خاندان کے دیگر افراد، جن میں ان کے بہن بھائی اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں، سب کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہیں اور کسی قسم کا تضاد سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود ان کا نام حذف کیے جانے کی کوئی واضح وجہ پیش نہیں کی گئی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2 اپریل کو شیخ کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے نام کی بحالی کے لیے ٹریبونل سے رجوع کریں۔ اس سے قبل عدالت نے 20 فروری کو حکم دیا تھا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے عدالتی افسران کی خدمات لی جائیں، جبکہ 10 مارچ کو اپیلیٹ ٹریبونلز کے قیام کا حکم دیا گیا تھا۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو 28 فروری کو جاری کی گئی حتمی ووٹر لسٹ میں 61 لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام خارج کیے گئے تھے، جبکہ تقریباً 60 لاکھ “مشکوک اور زیر التوا” معاملات کی جانچ جاری رہی۔ ہفتہ تک تقریباً 57 لاکھ کیسز نمٹائے جا چکے تھے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنے افراد کے نام مستقل طور پر حذف کیے گئے۔ تاہم ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 45 فیصد کیسز میں نام حذف کیے گئے تھے، جس نے پورے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزید برآں، اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن ابھی تک ان 19 ٹریبونلز کو مکمل طور پر فعال نہیں کر سکا، جو ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے افراد کی اپیلوں کی سماعت کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ اس تاخیر نے بھی انتخابی شفافیت اور انتظامی تیاریوں پر خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ شیخ کے کیس نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ حقیقی ووٹرز کے نام بھی غلطی یا تکنیکی بنیادوں پر حذف کیے جا رہے ہیں، جو آنے والے انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔