مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ریاست میں یکساں سول کوڈ، شہریوں کا قومی رجسٹر اور سخت ترین تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون نافذ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ کولکتہ کے رابندر سدن میں وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت پیر کے روز ریاستی اسمبلی میں یونیفارم سول کوڈ بل پیش کرنے جا رہی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام قانونی اور انتظامی نظام میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے، جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک وسیع اور حساس بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ ریاست کی بین الاقوامی سرحد سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی دراندازی ہو رہی ہے، جس کے باعث مبینہ طور پر مذہبی تبدیلی، آبادیاتی تبدیلیاں اور ‘لو جہاد’ جیسے معاملات فروغ پا رہے ہیں۔ شوبھندو ادھیکاری نے ان شقوں کو قومی سلامتی اور سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ قرار دیا، تاہم انہوں نے ان سنگین دعوؤں کے حق میں کوئی بھی ٹھوس دستاویزی ثبوت یا سرکاری اعداد و شمار پیش نہیں کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گجرات، آسام اور اتراکھنڈ کی حکومتوں نے جس قانونی طریقہ کار کے تحت یو سی سی نافذ کیا ہے، مغربی بنگال میں بھی اسی ماڈل کو اپنایا جائے گا۔ بی جے پی نے سال 2026 کے اسمبلی انتخابات کے دوران حکومت بننے کے چھ ماہ کے اندر یو سی سی نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب حکومت اس طے شدہ مدت سے پہلے ہی قانون سازی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر مغربی بنگال میں بی جے پی کی دیگر اکثریتی ریاستوں جیسے اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ کی طرز پر اینٹی کنورژن قانون نافذ ہوتا ہے تو اس کے اثرات خاندانی اور سماجی قوانین پر گہرے ہوں گے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی لالچ، جبر، دھوکہ دہی یا محض شادی کی غرض سے کی جانے والی مذہبی تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مند افراد اور رسومات ادا کرنے والے مذہبی رہنماؤں کے لیے ضلعی انتظامیہ کو قبل از وقت مطلع کرنا لازمی ہو جائے گا۔ اس قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں، اور صفائی پیش کرنے کی ذمہ داری بھی اسی شخص پر ہوگی جس پر تبدیلیٔ مذہب کا الزام ہوگا۔
یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی صورت میں تمام مذاہب کے پرسنل لا بالخصوص مسلم پرسنل لا کے تحت شادی، طلاق، وراثت، نان و نفقہ اور بچوں کو گود لینے سے متعلق رائج قوانین براہ راست متاثر ہوں گے۔ نئے فریم ورک کے تحت تمام شہریوں کے لیے شادی کی رجسٹریشن، کم از کم عمر، جائیداد کی تقسیم اور لائیو اِن ریلیشن شپ کے اصول یکساں کر دیے جائیں گے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں مسلم آبادی کا تناسب تقریباً 27 فیصد ہے، جو کہ ایک بڑی اقلیتی شرح ہے۔ اگر اتنی بڑی آبادی والی ریاست میں یکساں سول کوڈ اور این آر سی نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے نہ صرف دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اقلیتی برادریوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے آئینی سوالات بھی کھڑے ہوں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور سیاسی فائدے کے لیے پولرائزیشن پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق این آر سی اور یو سی سی جیسے حساس قوانین کو بیک وقت لانے کی تجویز نے ریاست میں خوف اور بے یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ اب تمام نظریں پیر کے روز اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مسودے پر لگی ہیں، جس سے اس مجوزہ قانون کی حتمی شکل اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر پڑنے والے اثرات کا صحیح اندازہ ہو سکے گا۔




