مغربی بنگال کے ضلع بیربھوم میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 32 سالہ مسلم نوجوان انورل شیخ نے مبینہ طور پر ووٹر لسٹ سے اپنا نام خارج کیے جانے کے بعد خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ نلہاٹی علاقے میں پیش آیا، جہاں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران ان کا نام حذف کر دیا گیا تھا، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔
پولیس کے مطابق انورل شیخ کا نام ضمنی ووٹر لسٹ میں “زیر التوا جانچ” کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ نوٹس ملنے کے بعد انہوں نے تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق رام پور ہاٹ سب ڈویژنل دفتر جا کر اپیل بھی کی۔ تاہم اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل نے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔
اہل خانہ کے مطابق گھر واپس آنے کے بعد وہ انتہائی پریشانی کی حالت میں تھے اور اسی دوران انہوں نے زہر پی لیا۔ انہیں فوری طور پر نلہاٹی پرائمری ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں سے مزید علاج کے لیے دوسرے اسپتال لے جایا جا رہا تھا، مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ ڈاکٹروں کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
مرحوم اپنے پیچھے بیوی اور دو کمسن بیٹوں کو چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی اچانک موت سے خاندان کے ساتھ ساتھ پورا علاقہ غم میں ڈوب گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران عام شہریوں کے نام بغیر مناسب جانچ کے خارج کیے جا رہے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی حقیقی ووٹرز، خاص طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ، تمام دستاویزات جمع کرانے کے باوجود فہرست سے باہر کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل میں شفافیت کا فقدان ہے، جس نے عوام میں خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور کچھ مقامی افراد نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اسی طرح نام حذف کیے جاتے رہے تو وہ آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں۔ لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ پورا عمل منصفانہ ہے یا نہیں، کیونکہ اس سے عام شہریوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب پولیس نے معاملہ درج کر کے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کا حصہ ہے، جہاں بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے اور ہزاروں افراد کے کیس زیر التوا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کو زیادہ احتیاط اور شفافیت کے ساتھ انجام دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی حقیقی ووٹر کو نقصان نہ پہنچے۔
