مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران مختلف علاقوں سے ہنگامہ آرائی، تصادم اور تکنیکی رکاوٹوں کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس سے انتخابی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سلی گوڑی، مرشدآباد، مالدہ اور ناؤدا سمیت کئی حساس علاقوں میں کشیدہ صورتحال رپورٹ ہوئی، جبکہ الیکشن کمیشن نے بعض واقعات پر ضلع انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ریاست کے مختلف حصوں میں صبح سے ہی ووٹر بڑی تعداد میں پولنگ مراکز پہنچے اور حق رائے دہی استعمال کیا، تاہم بعض مقامات پر تنازعات نے ماحول کو متاثر کیا۔ سلی گوڑی کے جگدیش چندر ودیا پیٹھ میں قائم بوتھ نمبر 26/237 پر ووٹنگ کے دوران اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب ترنمول کانگریس اور بی جے پی کارکنان کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بحث جھڑپ میں تبدیل ہو گئی اور پولنگ مرکز کے باہر ہنگامہ برپا ہو گیا۔

واقعہ کے وقت متعلقہ حلقہ کے بی جے پی امیدوار شنکر گھوش بھی مقام پر موجود تھے۔ بوتھ پر تعینات مرکزی مسلح پولیس فورس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کیا اور حالات پر قابو پایا۔ بعد ازاں ووٹنگ کا عمل دوبارہ شروع کرایا گیا۔ انتظامیہ نے علاقے کی حساسیت کے پیش نظر اضافی سکیورٹی تعینات کر دی۔

مرشدآباد ضلع میں بھی ووٹنگ کے دوران تصادم کی اطلاعات ملی ہیں۔ الزام ہے کہ ترنمول کانگریس کارکنان نے عام جنتا یونین پارٹی کے سربراہ ہمایوں کبیر کے خلاف نعرے بازی کی، جس کے بعد ماحول کشیدہ ہو گیا۔ بڑی تعداد میں کارکنان اور مقامی افراد جمع ہو گئے، جبکہ پولیس نے سکیورٹی سخت کر دی۔ ہمایوں کبیر نے موقع پر پہنچ کر احتجاج کیا اور کہا کہ وہ معاملہ حل ہونے تک وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی تلخ گفتگو کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں۔

ناؤدا میں مبینہ بم دھماکہ کی خبر نے بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے دیسی بم پھینکے گئے، جس میں چند افراد زخمی ہوئے۔ حکام نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تفصیلات کا انتظار ہے۔

مالدہ کے موتھاباڑی اسمبلی حلقہ کے بوتھ نمبر 55 پر ووٹنگ تاخیر سے شروع ہونے پر ووٹرز میں ناراضی پھیل گئی۔ طویل انتظار کے بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا، جس کے دوران ترنمول کانگریس اور بی جے پی کارکنان کے درمیان تصادم کی خبریں سامنے آئیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں مزید نفری تعینات کی گئی۔

ان واقعات کے باوجود مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر ووٹنگ کا عمل پُرامن انداز میں جاری ہے۔ ان کے مطابق بیشتر پولنگ مراکز پر رائے دہندگان سکون سے ووٹ ڈال رہے ہیں اور انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بنگال میں ہر انتخاب کے دوران کشیدگی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، اور اس مرتبہ بھی پہلے مرحلے میں سامنے آنے والے واقعات نے آئندہ مراحل کے لیے تشویش بڑھا دی ہے۔ اگر حساس علاقوں میں سخت نگرانی نہ کی گئی تو آنے والے مرحلوں میں تنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

شیئر کریں۔