تمل ناڈو بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر کے اناملائی نے چھوڑی پارٹی

تمل ناڈو کی سیاست میں اس وقت ایک بڑا بھونچال آ گیا ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سب سے مقبول اور فائر برانڈ تمل چہرہ مانے جانے والے کے اناملائی نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سابق آئی پی ایس افسر کے اناملائی، جو تمل ناڈو میں بی جے پی کا اہم ترین چہرہ رہے ہیں، نے نئی دہلی میں بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین، قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ خاندانی اور سیاسی ذرائع کے مطابق اناملائی نے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو واضح کر دیا ہے کہ وہ اب پارٹی کے اندر اپنا کوئی سیاسی مستقبل نہیں دیکھتے اور وہ اپنے طور پر ایک نئی سیاسی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس اچانک پیش رفت نے ریاست میں بی جے پی کے تنظیمی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس بڑے سیاسی بحران کی جڑیں تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شرمناک شکست اور قیادت کے ساتھ اناملائی کے بڑھتے ہوئے اختلافات میں چھپی ہوئی ہیں۔ اناملائی تمل ناڈو میں دراوڑی جماعتوں (ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے) کے خلاف بی جے پی کی ایک آزاد اور جارحانہ شناخت بنانے کے حق میں تھے، لیکن بی جے پی ہائی کمان نے انتخابات سے قبل اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ دوبارہ انتخابی اتحاد کو ترجیح دی اور اپریل 2025 میں اناملائی کو ہٹا کر نینار ناگیندرن کو تمل ناڈو بی جے پی کا نیا صدر بنا دیا۔ اس تنظیمی تبدیلی کے بعد سے ہی اناملائی کو پارٹی میں سائیڈ لائن کر دیا گیا تھا اور حالیہ انتخابات میں ان کا نام امیدواروں کی فہرست سے بھی غائب تھا، جس کے نتیجے میں بی جے پی کو 234 نشستوں میں سے صرف ایک نشست پر کامیابی مل سکی۔

اناملائی اور مرکزی حکومت کے درمیان حالیہ دنوں میں پالیسیوں کو لے کر بھی شدید اختلافات دیکھے گئے۔ سی بی ایس ای (CBSE) کی جانب سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے لاگو کی گئی سہ لسانی پالیسی (Three-Language Policy) کی اناملائی نے کھل کر مخالفت کی تھی اور مرکزی حکومت سے اس نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس قدم کو سیاسی ماہرین نے مرکز کے خلاف اناملائی کی بغاوت اور اپنی نئی سیاسی زمین تیار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔ نئی دہلی روانگی سے قبل چنئی ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ اگلے دو دنوں میں میڈیا کے سامنے کھل کر اپنی پوزیشن واضح کریں گے، تاہم اب یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ انہوں نے خوشگوار ماحول میں پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کی درخواست کی ہے۔

تمل ناڈو کے سیاسی حلقوں میں اب یہ افواہیں گرم ہیں کہ اناملائی اداکار سے سیاست داں بنے جوزف وجے کی پارٹی ‘تملگا ویٹری کژگم’ (TVK) کے متبادل کے طور پر ایک نیا محاذ یا عوامی تحریک شروع کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تمل ناڈو میں ایک غیر سیاسی عوامی تحریک ‘مکل شکتی ایکم’ (People’s Power Movement) کے نام سے شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو بعد میں ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ کوئمبتور اور مدورائی جیسے علاقوں میں ان کے حامیوں نے ‘تمل ناڈو کو بچانے’ کے نعروں کے ساتھ پوسٹرز بھی لگا دیے ہیں۔ سابق آئی پی ایس افسر کا یہ فیصلہ ریاست میں بی جے پی کی جڑوں کو کمزور کر سکتا ہے، کیونکہ وہ نوجوانوں اور ووٹرز کے درمیان پارٹی کا سب سے مقبول چہرہ مانے جاتے تھے۔

تمل ناڈو کی موجودہ سیاسی صورتحال اب انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں نے اناملائی کو روکنے اور انہیں کوئی بڑی قومی ذمہ داری دینے کی آخری وقت تک کوشش کی، لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ اب سب کی نظریں اناملائی کی جانب سے اگلے دو دنوں میں ہونے والے باضابطہ اعلان پر ٹکی ہیں، جو یہ طے کرے گا کہ تمل ناڈو کی روایتی دراوڑی سیاست میں یہ نیا قوم پرست متبادل کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

شیئر کریں۔